صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 142 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 142

صحيح البخاری جلده ۱۴۴۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دیا گیا ہے اور یہ کہ وعدہ جنت کے عوض اللہ نے مومنوں کے اموال اور ان کی جانیں لے لی ہیں۔اس سے جو قدر و قیمت ان نفوس و اموال کی ہوسکتی ہے اس نسبت سے اس مجاہدے کی فضیلت متحقق ہوگی۔جس سے یہ ظاہر ہے کہ یہ اشیاء مومنوں کی نہیں بلکہ سچ مچ اللہ تعالی ہی کی ہیں اور انہیں بے دریغ البہی کاموں میں خرچ کرنا چاہیے، جو اللہ کے ہیں۔فِي سَبِيلِ الله سے مراد الہی مشیت سے تعلق رکھنے والے تمام کام ہیں۔اس ضمن میں کتاب الزكاة باب ۱ تا ۴ مع تشریح دیکھئے۔وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى التَّوُرَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرانِ : مذکورہ بالا جہاد کے تعلق میں جن وعدوں کا آیت میں حوالہ دیا گیا ہے ان سے بھی فضیلت جہاد کا علم ہوتا ہے۔یہ وعدے مختصر احسب ذیل ہیں۔عہد نامہ قدیم کی کتاب استثناء میں جہاد کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کو وعدہ کا ملک دیا جائے گا۔ان الفاظ میں ان کو بشارت دی گئی ہے :- اے اسرائیل! سُن اور احتیاط کر کے ان ( آئین اور احکام ) پر عمل کر ، تا کہ تیرا بھلا ہو اور تم خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے وعدہ کے مطابق اُس ملک میں جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے، نہایت بڑھ جاؤ۔“ (استثناء- باب ۶ آیت ۳) انجیل میں ایک شخص کے سوال کا ذکر ہے کہ میں کونسی نیکی کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے سائل کو جواب دیا: اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔اور اس کے دریافت کرنے پر آپ نے تو رات کے مشہور دس احکام میں سے بعض کا نام لیا۔سائل نے کہا: اس پر تو میں عمل کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا: اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آکر میرے پیچھے ہولے۔(متی باب ۱۹ آیت ۲۱) اور اسی واقعہ پر پطرس نے کہا: ”دیکھ ہم تو سب کچھ چھوڑ کر تیرے پیچھے ہو لئے ہیں۔پس ہم کو کیا ملے گا؟ یسوع نے ان سے کہا: میں تم سے بیچ کہتا ہوں کہ جب ابن آدم کی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہو لئے ہو، بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے۔اور جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے، اس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔لیکن بہت سے اوّل آخر ہو جائیں گے اور آخر اول ( متنی باب ۱۹ آیت ۲۷ تا ۳۰ ) الفاظ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ سے نفوس کی قربانی مراد ہے جو دفاع و تحفظ کے وقت کرنی پڑتی ہے۔اور یہ قربانی اموال کی قربانی سے اعلیٰ درجہ رکھتی ہے اور اس ذکر کے اندر ہی مالی قربانی شامل ہے۔مذکورہ بالا بیج اور اس کے ذریعہ عظیم الشان کامیابی کی بشارت دینے کے بعد دوسری آیت میں ان نفوس کے اوصاف ترتیب وار بیان کیے گئے ہیں جو مذکورہ بیع و شراء سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ترتیب میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریجی بیان ہے۔-1 -5 التَّائِبُونَ : گناہوں سے تو بہ کرنے والے العبدُونَ : خدا پرست صفات الہیہ میں رنگین الْحَامِدُونَ : صفات الہیہ کے بیان کرنے والے