صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 141
صحيح البخاری جلده ۱۴۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ لَا أَجِدُهُ کوئی ایسا کام بتائیں جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ نے قَالَ هَلْ تَسْتَطِيْعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ فرمایا: میں ایسا کوئی کام نہیں پاتا۔ پھر فرمایا: کیا تو یہ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُوْمَ وَلَا تَفْتَرَ کر سکتا ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لئے نکلے تو تو مسجد میں جائے اور نماز کے لئے کھڑا ہوا اور پھر نہ تھے، اور وَتَصُوْمَ وَلَا تُفْطِرَ قَالَ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ روزہ رکھے اور افطار نہ کرے؟ اس نے کہا: ایسا کون ذَلِكَ۔ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ فَرَسَ کر سکتا ہے؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا: جہاد کرنے الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ فَيُكْتَبُ والے کا گھوڑا اگر اسی کی لمبان میں کھیلیں کرتا ہے تو اس کے عوض میں مجاہد کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ لَهُ حَسَنَاتٍ۔ تشريح : فَضْلُ الْجِهَادِ وَالسَّيَرِ : جہادکی فضیلت اور سیرت صالحہ کے حلق میں جن آیات کا حال دیا گیا ہے وہ یہ ہیں : إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ فِ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمُ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ التَّائِبُونَ الْعَبِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ) ( التوبة : ۱۱۱-۱۱۲) اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو (اس وعدہ کے ساتھ ) خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ (کیونکہ) وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں۔ پس ( یا تو وہ) اپنے دشمنوں کو مار لیتے ہیں یا خود مارے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو اس پر حق ہے ( اور ) تورات اور انجیل (میں بھی بیان کیا گیا ہے ) اور قرآن میں (بھی) اور اللہ سے زیادہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس ( اے مومنو! ) اپنے اس سودے پر خوش ہو جاؤ ، جو تم نے کیا ہے اور یہی وہ بڑی کامیابی ہے ( جس کا مومنوں کو وعدہ دیا گیا ہے۔ جو لوگ ) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، ( خدا تعالیٰ کی حمد کرنے والے، ( خدا تعالیٰ کی راہ میں ) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے ہیں اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ تعالیٰ ) کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، ایسے مومنوں کو تو بشارت دے دے۔ ) مذکورہ بالا آیات میں فضیلت جہاد اور جہاد کرنے والوں کی سیرت صالحہ کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے۔ اس لئے کتاب الجہاد میں بھی ان دونوں کا ذکر ایک جگہ ہے۔ فضیلت جہاد کے تعلق میں آیات مذکورہ بالا کا حوالہ دینا امام موصوف کے حُسنِ انتخاب کی ایک بین مثال ہے۔ ان آیات میں ایک بیچ کا ذکر ہے جس میں مومنوں کی جانوں اور اموال کو اللہ تعالیٰ کی ملک قرار