صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 139
صحيح البخاری جلده ۱۳۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وعدہ دیا گیا ہے۔ جو لوگ تو بہ کرنے والے، عبادت إِلَى قَوْلِهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ کرنے والے، حمد کرنے والے، (خدا کی راہ میں ) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے (التوبة: ۱۱۱ - ۱۱۲) والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، ایسے مومنوں کو تو بشارت دے دے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْحُدُودُ الطَّاعَةُ۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: اللہ کی حدوں سے مراد اُس کے احکام ہیں۔ ۲۷۸۲ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ۲۷۸۲: حسن بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بن سابق نے ہمیں بتایا۔ مالک بن مغول نے ہم سے ابْنُ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ بیان کیا، کہا: میں نے ولید بن عیزار سے سنا۔ انہوں الْعَيْزَارِ ذَكَرَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِي نے ابو عمر و (سعد بن ایاس) شیبانی سے روایت کرتے قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ ہوئے ذکر کیا۔ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ سے پوچھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کونسا عمل سب أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت مِيقَاتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيِّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: پھر کونسا ؟ آپ نے فرمایا: الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ الْجِهَادُ والدین سے نیک سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کونسا؟ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَسَكَتُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ خاموش ہوا ہو رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کچھ نہ پوچھا۔ اور اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو مجھے لَزَادَنِي۔ اور بھی بتاتے۔ اطرافه ٥٢٧، ٥٩٧٠، ٧٥٣٤۔