صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 138 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 138

صحيح البخاری- جلده ۱۳۸ باس العالم ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٥٦ - كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسّير 000000000 لفظ جهاد، جھد سے مشتق ہے۔ جس کے لغوی معنے ہیں انتہائی کوشش کرنا اور غایت درجہ محنت و مشقت اُٹھانا۔ اور اس کے شرعی معنی ہیں مجاہدہ نفس، دفاع اور خود حفاظتی میں دشمن کا مقابلہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے سعی ۔ اور لفظ سیر جہاں جمع ہے سیرۃ کی؟ جس کے معنے سوانح اور حالات زندگی کے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۷۸) اس کتاب میں : جہاد سے متعلق احکام کا ذکر ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات زندگی سے ان احکام کی وضاحت کی گئی ہے، تا معلوم ہو کہ آپ نے جہاد کے بارے میں کیا نمونہ دکھایا ہے۔ بَاب ۱ : فَضْلُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد کی فضیلت اور ( جہاد کے بارے میں ) نیک نمونہ کا بیان وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : اِنَّ الله اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکر اللہ نے مومنوں سے ان کی اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ جانوں اور ان کے مالوں کو اس وعدہ کے ساتھ خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی کیونکہ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۔ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ ہیں۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو اس پر لازم ہے اور تورات پس یا تو وہ اپنے دشمنوں کو مار لیتے ہیں یا خود مارے جاتے وَ يُقْتَلُونَ * وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا اور انجیل میں بھی بیان کیا گیا ہے اور قرآن میں بھی۔ اور فِي التَّوْرَيَةِ وَالْإِنْجِيلِ اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى (اے مومنو!) تم اپنے اس سودے پر خوش ہو جاؤ جو تم نے بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا کیا ہے، اور یہی وہ بڑی کامیابی ہے، جس کا مومنوں کو