صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 136
صحيح البخارى جلده ۵۵ - كتاب الوصايا وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ کہ آپ تشریف لائیں اور قرض خواہ آپ کو دیکھیں يَّرَاكَ الْغُرَمَاءُ قَالَ اذْهَبْ فَبَيْدِرُ كُلَّ ( تو شاید قرض میں کچھ تخفیف کر دیں۔آپ نے فرمایا: تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ فَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ اچھا جاؤ اور ہرقسم کی کھجور الگ الگ ڈھیر کر دو۔چنانچہ میں واپس آیا اور ) ایسا ہی کیا۔پھر آنحضرت ﷺ کو فَلَمَّا نَظَرُوْا إِلَيْهِ أُغْرُوا تِلْكَ بي بلانے گیا تو قرض خواہوں نے جب آنحضرت ﷺ کو السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُوْنَ طَافَ دیکھا تو مجھ سے اور بھی سختی سے مطالبہ کرنے لگے۔حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جب آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ حال دیکھا تو آپ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ أَصْحَابَكَ کھجوروں کے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین بار فَمَا زَالَ يَكِيْلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى الله گھومے پھر اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں أَمَانَةَ وَالِدِي وَأَنَا وَاللَّهِ رَاضِ أَنْ کو بلاؤ۔پھر آپ نے اس ڈھیر میں سے انہیں ماپ ماپ کر دینا شروع کیا۔یہاں تک کہ اللہ نے میرے والد کا يُؤَدِّيَ اللهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلَا أَرْجِعَ إِلَى كل قرضہ ادا کر دیا۔اور بخدا میں تو اس بات پر راضی تھا أَخَوَاتِي تَمْرَةً فَسَلِمَ وَاللَّهِ الْبَيَادِرُ کہ اللہ میرے باپ کا قرضہ ادا کر دے چاہے میں اپنی كُلُّهَا حَتَّى أَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی لے کر نہ جاؤں۔لیکن عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جتنے ڈھیر وہاں تھے سب بیچ رہے۔خدا کی قسم ! میں اس كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً۔ڈھیر کو دیکھ رہا تھا جس پر آنحضرت ﷺ بیٹھے تھے۔وہ ایسا ہی رہا جیسے ایک کھجور بھی اس میں سے کم نہیں ہوئی۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ أُغْرُوْا بِي يَعْنِي ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: أُغْرُوا بي کے ابوعبدالله هِيجُوْا بِي، فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ معانی ہیں مجھے پر بھڑک اُٹھے۔۔۔۔پس ہم نے ان وَالْبَغْضَاء۔(المآيدة : ١٥) کے درمیان باہمی دشمنی اور بغض مقدر کر دیے ہیں۔اطرافه: ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۳۹٦، ٢٤٠٥، ۲٦٠١، ۲۷۰۹، ٣٥۸۰، ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔تشریح: قَضَاءُ الْوَصِيَ دُيُونَ الْمَيِّتِ بِغَيْرِ مَحْضَرٍ مِنَ الْوَرَثَةِ: مسلہ معنونہ میں فقہاء کا اتفاق ہے کہ وصی میت کے قرضے رشتہ داروں کی عدم موجودگی میں ادا کرنے کا مجاز ہے۔