صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 135
صحيح البخاری جلده الله ۵۵- كتاب الوصايا کا نسخ کے بارے میں قول محض ایک قیاسی بات ہے ۔ وَالنَّسْخُ لَا يَثْبُتُ بِالاحْتِمَالِ ۔ احتمال سے نسخ ثابت نہیں ہوتا ۔ امام احمد بن حنبل اور بعض دیگر فقہاء نے نسخ کے خیال کورڈ کیا ہے اور حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ثابت ہے کہ مذکورہ طریق شہادت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی عمل ہوتا رہا ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۵۰۳-۵۰۴) شہادت اور یمین میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر میں تعداد گواہان اور صفت عدالت کی شرط ہے اور یمین میں یہ شرط نہیں۔ یہ بات معلوم ہونے پر کہ جھوٹی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے رڈ کرنے کا حق فریق ثانی کو دیا جاتا ہے۔ جھوٹی قسم کھانے والا خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ وصیت کا مال حاصل کرے بلکہ یہ تنازع کی ایک مخصوص صورت ہے جس میں مذکورہ بالا اجازت دی گئی ہے۔ یہ گواہوں والی شہادت نہیں ۔ گواہوں کا تعلق تو اصول عدالت و محاکمہ سے ہے۔ لیکن وصی پر شبہ نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ بالا طریق پر فیصلہ عدالت کے طریق کار سے الگ ہے اور روایت زیر باب سے اس کی صورت و نوعیت ظاہر ہے جس سے آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ بَاب ٣٦ : قَضَاءُ الْوَصِيِّ دُيُونَ الْمَيِّتِ بِغَيْرِ مَحْضَرٍ مِنَ الْوَرَثَةِ وصی کا میت کے قرضوں کو بغیر دوسرے وارثوں کی حاضری کے ادا کرنا ۲۷۸۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ۲۷۸۱ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا؛ یا فضل بن یعقوب أَوِ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْهُ حَدَّثَنَا نے محمد بن سابق سے روایت کی کہ شیبان (بن عبدالرحمن ) شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ فِرَاسٍ قَالَ قَالَ البو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ فراس (بن کی ) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: (عامر) شعمی کہتے تھے: حضرت الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَاهُ کیا کہ ان کے باپ احد کی جنگ میں شہید ہوئے اور اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ مِتَّ بَنَاتٍ انہوں نے چھ بیٹیاں پیچھے چھوڑیں۔ اسی طرح اپنے اوپر وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا فَلَمَّا حَضَرَهُ جِدَاد قرضہ بھی چھوڑا۔ جب ان کے باغ کی کھجور کاٹنے کا الله وقت آ میں آنحضرت صل کی۔ النَّخْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ وقت آپہنچا تو میں حضرت ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کو علم ہی ہے کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَدْ میرے والد اُحد کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ نے بہت سا قرضہ اپنے ذمہ چھوڑا ہے اور میں چاہتا ہوں