صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 134
صحيح البخارى جلده السَّهْمِي ۱۳ ۵۵ - كتاب الوصايا فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ وارثوں میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور ان دونوں شَهَادَتِهِمَا وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ قَالَ نے قسم کھائی کہ ہماری شہادت ان دونوں کی شہادت وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ کے مقابل زیادہ لائق اعتبار ہے اور یہ پیالہ انہی کے امَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ آدمی کا ہے۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: انہی کے بارے میں آیت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةً احَدَكُمُ الْمَوْتُ ( المايدة : ١٠٧) بَيْنَكُم۔۔نازل ہوئی تھی۔تشریح: ہے کہ کتاب الوصایا کے ابواب میں امام بخاری نے مسائل وقف بھی شامل کئے ہیں۔کیونکہ ان کی نوعیت بھی وصیت ہی کی ہے۔خاتمہ پر پھر مسائل وصیت کی طرف عود کیا ہے اور وصیت کے متعلق امر متنازعہ کے بارے میں شہادت موجود نہ ہونے پر بذریعہ قسم فیصلہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔اگر یہ معلوم ہو کہ مرنے والے موصی کی وصیت میں خیانت کی گئی ہے تو جن کا نقصان ہوا ہو، انہیں اجازت ہے کہ وہ زیر التزام اشخاص کی قسم کو اپنے گواہوں کے ذریعہ باطل ثابت کریں جیسا کہ واقعہ مذکورہ بالا میں ہو۔تمیم داری اور عدی بن بداء کے خلاف شہادت مہیا ہونے پر کہ انہوں نے جام مکہ مکرمہ میں فروخت کیا ہے۔سبھی کے رشتہ داروں میں سے عمرو بن عاص اور مطلب بن ابی وداعہ نے قسم کھائی کہ ان دونوں نے خیانت کی ہے اور جام ایک ہزار درہم پر بیچا گیا ہے۔خود تمیم داری نے یہ بات تسلیم کی۔یہ واقعہ ان کے مسلمان ہونے سے قبل کا ہے۔بعد میں ان کا شمار قابل قدر صحابہ رضوان اللہ علیہم میں ہوا۔پہلے یہ عیسائی تھے اور دارین کے باشندے تھے۔عدی بن بداء ان کے رضاعی بھائی تھے۔(فتح الباری جزء ۵ صفه ۵۰۲) مذکورہ بالا آیات اور واقعہ سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ غیر مسلم کی شہادت قابل تسلیم ہے اور ان سے حلف بھی لیا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنَكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ : بتایا جا چکا جاسکتا ہے۔مِنكُمُ اور مِنْ غَيْرِ گُم کے تقابل سے ظاہر ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی شہادت کا یہاں ذکر ہے۔وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : شانِ نزول آیات کے تعلق میں متعدد بار مثالوں سے بتایا جا چکا ہے کہ واقعات سے ان آیات کی تطبیق مراد ہوتی ہے نہ یہ کہ اس واقعہ کی وجہ سے آیات کا نزول ہوا۔مذکورہ بالا آیات کے نزول کا واقعہ بھی اسی قسم کی تطبیق سے ہے۔یہ آیات سورہ مائدہ کی ہیں جو آخر میں نازل ہوئیں اور بقول حضرت عائشہ حضرت ابن عباس، عمرو بن شرحبیل اور سلف صالح کی ایک بڑی جماعت نے انہیں محکمات میں شمار کیا ہے۔جن فقہاء نے غیر مسلم کی شہادت اس وجہ سے ناقابل اعتبار قرار دی ہے کہ فاسق کی شہادت غیر معتبر ہے اور کافر فاسق کے مقابلہ میں بدرجہ اولی نا قابل اعتبار ہوگا۔ان کے نزدیک محولہ بالا آیات میں حکم منسوخ ہے۔آیت مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ (البقرة : ۲۸۳) سے ان