صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 133 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 133

صحيح البخارى جلده ما ۵۵ - كتاب الوصايا وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِيْنَ کے مطابق دیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں المايدة : ۱۰۷ - ۱۰۹) کے بعد کوئی اور قسمیں ان کی قسموں کو رڈ کرنے کے لئے پیش کی جائیں اور اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کے حکموں کی اچھی طرح اطاعت کرو اور یا درکھو کہ اللہ سرکشوں کو ہدایت نہیں دیتا۔الْأَوْلَيْنِ وَاحِدُهُمَا أَوْلَى الْأَوْلِيَانِ کی واحد اولی ہے یعنی حق دار۔اس سے وَمِنْهُ أَوْلَى بِهِ عُثِرَ ظُهِرَ أَعْثَرْنَا أَوْلی پہ ہے یعنی وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔عُشر کے معانی ہیں کھل گیا، ظاہر ہو گیا۔اَخْشَرُنَا کے معانی ہیں ہم نے کھول دیا، ظاہر کر دیا۔عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ الله أَظْهَرْنَا۔۲۷۸۰: وَقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۲۷۸۰: (امام بخاری نے کہا: مجھ سے علی بن عبد اللہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مدینی نے کہا : ہم سے کئی بن آدم نے بیان کیا کہ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِم ابوزائدہ کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن ابی قاسم سے، محمد نے عبد الملک بن سعید بن جبیر سے، عبدالملک نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْم ابن عباس نے کہا: بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور مَعَ تَمِيمِ الدَّارِيِّ وَعَدِي بْنِ بَدَاءٍ عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا تو وہ سہی شخص ایسے فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضِ لَيْسَ بِهَا ملک میں فوت ہوا جس میں کوئی مسلمان نہ تھا۔جب مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَركَتِهِ فَقَدُوْا جَامًا وہ دونوں اس کا مترو کہ مال لائے تو اس کے وارثوں مِنْ فِضَّةٍ مُحَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ فَأَخْلَفَهُمَا نے ایک چاندی کا گلاس گم پایا۔جس پر سونے کا کام ہوا ہوا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ و تم دی ( انہوں نے قسم کھالی) پھر اس کے بعد وہی وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا ابْتَعْنَاهُ مِنْ گلاس مکہ میں پایا گیا۔جن کے پاس ملا انہوں نے کہا: تَمِيْمٍ وَعَدِي فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے تو اس میت کے