صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 132 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 132

صحيح البخارى جلده ۱۳۲ باب ٣٥ ۵۵ - كتاب الوصايا قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَايُّهَا الَّذِيْنَ اللہ عزوجل کا فرمانا: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم امَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے تو وصیت اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ کے وقت تمہارے پاس گواہی کا طریق یوں ہونا چاہیے کہ تم میں سے دو عدل والے گواہ مقرر ہوں یا دو گواہ جو تم اثْنُنِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ مسلمانوں میں سے نہ ہوں بلکہ غیر لوگوں میں سے ہوں۔اخَرُنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ یہ قاعدہ اس حالت میں ہو گا جب تم ملک میں سفر کر رہے ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمْ ہو اور تم پر موت کی مصیبت نازل ہو جائے اور تم کو اپنے مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ گواہ میسر نہ آئیں۔اس صورت میں تم (مومنوں کا گروہ) ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لے اور وہ دونوں بَعْدِ الصَّلوةِ فَيُقْسِمُنِ بِاللَّهِ اِنِ اس صورت میں کہ تمہیں ان کی گواہی کے متعلق شبہ ہو؛ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِى بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ الله ی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس شہادت سے کوئی اپنا فائدہ كَانَ ذَا قُرْبى وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ منظر نہیں رکھتے خواہ جس کے حق میں ہم گواہی دے رہے اِنَّا إِذًا لَمِنَ الْاثِمِينَ فَاِن ہیں ؟ ہمارا قریبی ہی کیوں نہ ہو اور ہم اللہ کی مقرر کردہ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا شہادت (یعنی سچ بولنے کے فرض ) کو نہیں چھپائیں گے۔اگر ہم ایسا کریں تو اس صورت میں ہم گناہ گار ہوں گے۔فَاخَرُنِ يَقُوْمُنِ مَقَامَهُمَا مِنَ پھر اگر بعد میں کھل گیا کہ ان دونوں نے اپنے ذمہ گناہ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيْنِ واجب کر لیا ہے تو دو اور شخص ان وارثوں یعنی میت کے فَيُقْسِمُنِ بِاللهِ لَشَهَادَتُنَا اَحَقُّ مِنْ رشتہ داروں میں سے جن کے خلاف پہلے دو نے حق شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذَا قائم کیا تھا۔شہادت کے لئے کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم نَّمِنَ الظَّلِمِينَ ذلِكَ أَدْنَى آن کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان پہلے دو گواہوں کی گواہی سے زیادہ بچی ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا أَوْ نہیں کی۔اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم کو ظالموں میں سے يَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانُ بَعْدَ شمار کرنا چاہیے۔یہ طریقہ انہیں (یعنی پہلے گواہوں کو ) أَيْمَانِهِمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا اس بات کے زیادہ قریب کر دے گا کہ وہ گواہی تین واقعہ