صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 131
صحيح البخاری جلده ١٣١ ۵۵- كتاب الوصايا مَنْ حَفَرَ رُوْمَةَ : مہاجرین جب مدینہ میں آئے تو مدینہ کا پانی تلخ پایا۔رومہ نامی ایک چشمہ تھا جس کا پانی ایک غفاری ایک مشکیزہ ایک مذ اناج کے بدلے بیچتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ کیا یہ میرے ہاتھ تم فروخت نہیں کرو گے؟ جنت میں ایک چشمہ تمہیں ملے گا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا اور میرے خاندان کا اسی پر گزارہ ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پینتیس ہزار درہم میں اسے خرید لیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء مبارک کے مطابق مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔چشمہ کے پاس انہوں نے ایک کنواں بھی کھدوا دیا تا لوگوں کو پانی لینے میں آسانی ہو۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۸) جَيْشِ الْعُسُرَة سے غزوہ تبوک کی فوج مراد ہے۔اس کی تفصیل کیلئے کتاب المغازی باب ۷۸: غزوة تبوك وهي غزوة العسرۃ دیکھئے۔بَاب ٣٤ : إِذَا قَالَ الْوَاقِفُ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ فَهُوَ جَائِزٌ اگر وقف کرنے والا یوں کہے: ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے تو یہ وقف جائز ہوگا ۲۷۷۹ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۷۷۹ مرد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوتیاح سے، ابوتیاح نے الله قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے وَسَلَّمَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِي بِحَائِطِكُمْ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی نجار ! تم قَالُوْا لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ۔اپنے باغ کی میرے ساتھ قیمت ٹھہرالو۔انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے۔اطرافه: ٢٣٤ ، ٤٢٨، ٤٢٩، ١٨٦٨، ٢١٠٦، ٢٧٧١، ٢٧٧٤، ٣٩٣٢۔تشریح إِذَا قَالَ الْوَاقِفُ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ فَهُوَ جَائِزٌ : امام مالک کے نزدیک مذکورہ بالا الفاظ سے کوئی شئے وقف وقف متصور نہ ہوگی، جب تک کہ وقف کی صراحت نہ ہو۔اسی طرح غلام بھی مہم الفاظ سے آزاد نہ ہو گا۔حضرت امام بخاری کے نزدیک اگر قرینہ موجود ہو تو پھر الفاظ جو بھی استعمال ہوں؛ اس قرینہ کے مطابق مفہوم سمجھا جائے گا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۹) عام مساجد کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ حسب ارشاد باری تعالیٰ از قبیل وقف ہیں۔جیسے فرمایا: وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (الجن: 19) بنو نجار نے اس نیک غرض کی وجہ سے اپنی جگہ کی قیمت نہ لینی چاہی۔اس لئے ان کی طرف سے وہ زمین وقف ہی متصور ہوگی۔اس تعلق میں باب ۲۷ و باب ۳۰ بھی دیکھئے۔