صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 130
صحيح البخاری جلده ۱۳۰ ۵۵- كتاب الوصايا جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ فَجَهَّزْتُهُ کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دے، اس کے لئے قَالَ فَصَدَّقُوْهُ بِمَا قَالَ۔ جنت ہوگی اور میں نے ان کو ساز وسامان کے ساتھ تیار کرایا تھا۔ ابو عبد الرحمن کہتے تھے کہ حضرت عثمان کی باتوں کی انہوں نے تصدیق کی۔ وَقَالَ عُمَرُ فِي وَقْفِهِ لَا جُنَاحَ اور حضرت عمرؓ نے اپنے وقف سے متعلق کہا کہ جو اس کا عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ وَقَدْ يَلِيْهِ نگران ہو، اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ خود کھائے اور اس الْوَاقِفُ وَغَيْرُهُ فَهُوَ وَاسِعٌ لِكُلِّ۔ کا نگران وقف کرنے والا بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ دوسرا بھی۔ اس میں ہر ایک کیلئے وسعت ہے۔ تشريح : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا أَوْ بِرًا أَوِ اشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ مِثْلَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ : باب کا موضوع اوقاف وغیرہ سے عام استفادہ سے متعلق ہے اور مسئلہ کی نوعیت واضح کرنے کے لئے پانچ حوالے دیئے گئے ہیں جو حسب ذیل ہیں : پہلا حوالہ حضرت انس بن مالک سے متعلق ہے۔ یہ بصرہ میں سکونت پذیر تھے اور جب حج کو جاتے تو اسی گھر میں قیام فرماتے جو مکہ میں ان کی طرف سے وقف شدہ تھا۔ یہ روایت بیہقی کی ہے سی۔ امام مالک کے نزدیک جائز ہے کہ واقف اپنی وقف کردہ جائیدادوں سے کوئی حصہ اپنے استعمال کے لئے مخصوص کرلے ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۹۷) دوسرا حوالہ حضرت زبیر کا ہے جو داری نے اپنی مسلے میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے وقف علی الاولاد کر کے یہ شرط کی کہ جائیداد کو نہ بیچا جائے ، نہ ہبہ کیا جائے ، نہ ورث تقسیم ہو اور اگر ان کی بیٹی مطلقہ ہو جائے تو وہ مکان میں رہ سکتی ہے۔ پھر اگر نکاح کرلے تو اسے اس میں سکونت کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ تیسرا حوالہ حضرت عبداللہ بن عمرہ کا ہے جو ابن سعد کے نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بھی مذکورہ بالا شرائط پر اپنا حصہ وقف کیا تھا۔ چوتھا حوالہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے کہ باغیوں نے جب آپ کے مکان کا محاصرہ کیا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے چند سوالات پوچھے۔ جن میں سے دو کا یہاں ذکر ہے۔ ایک بات کا ذکر الركتاب الصلاة باب ۶۲ ، ۶۵ میں بھی گذر چکا ہے۔ پانچواں حوالہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقف کا ابھی زیر باب ۲۹،۲۸ گذر چکا ہے۔ مسئلہ معنونہ کے تعلق میں باب ۱۲ بھی دیکھئے جہاں واقف کے اپنے وقف سے فائدہ اُٹھانے کا ذکر ہے۔ عمدة القاری کے مطابق اس جگہ فَجَهَّرْتُهُمْ“ کا لفظ ہے (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۷۲ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الوقف، باب الصدقات المحرمات، جزء ۶ صفحه ۱۶۶) (سنن الدارمي كتاب الوصايا، باب في الوقف) الطبقات الكبرى، الطبقة الثانية من المهاجرين والأنصار، من بني عدي بن كعب، جز ۴۶ صفحه ۱۶۲)