صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 129 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 129

صحيح البخارى جلده ۵۵ - كتاب الوصايا باب ۳۳: إِذَا وَقَفَ أَرْضًا أَوْ بِدْرًا أَو أَشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ مِثْلَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ اگر کوئی زمین یا کنواں وقف کرے ور اپنے لئے یہ شرط کرے کہ مسلمانوں کے ڈول ڈالنے کی طرح اس کا بھی حق ہوگا وَوَقَفَ أَنَسٌ دَارًا فَكَانَ إِذَا قَدِمَ اور حضرت انسؓ نے ایک گھر وقف کیا تو جب وہ (مکہ) نَزَلَهَا۔وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بِدُوْرِهِ وَقَالَ آتے تو اس میں اترتے اور حضرت زبیر نے اپنے گھروں کو لِلْمَرْدُوْدَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ صدقہ میں دے دیا تھا اور ان کی بیٹیوں میں سے جس کو مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَرٍ بِهَا فَإِنِ اسْتَغْنَتْ طلاق دی جاتی ؟ اس کے متعلق کہتے کہ وہ اس میں رہے مگر خراب نہ کرے اور نہ کوئی اس کو نقصان پہنچے۔پھر اگر بِزَوْجِ فَلَيْسَ لَهَا حَقٌّ وَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ وه خاوند کی وجہ سے محتاج نہ رہے تو اس کا کوئی حق نہ ہوگا۔نَصِيْبَهُ مِنْ دَارِ عُمَرَ سُكْنَى لِذَوِي اور حضرت ابن عمر نے حضرت عمر کے گھر میں سے اپنے حصہ کو حضرت عبداللہ کے خاندان یعنی اپنے میں سے جو الْحَاجَاتِ مِنْ آلِ عَبْدِ اللهِ۔حاجت مند تھے ان کے رہنے کے لئے وقف کر دیا۔۲۷۷۸: وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنِي أَبِي :۲۷۷۸ اور عبدان نے کہا: میرے باپ (عثمان) عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي نے مجھے بتایا۔انہوں نے شعبہ سے شعبہ نے ابو اسحاق عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے ابو اسحاق نے ابو عبد الرحمن سے روایت کی کہ جب حَيْثُ حُوْصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے ان باغیوں پر بالا خانہ سے جھانکا اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَلَا أَنْشُدُ إِلَّا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَسْتُمْ دیتا ہوں اور تم انہی کو دے رہا ہوں جو بی جے کے صحابہ ہیں۔کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عليه وسلم نے فرمایا: جس نے رومہ کا کنواں کھودا اس علیہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفَرَ رُوْمَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ کیلئے جنت ہوگی۔چنانچہ میں نے اس کو کھدوایا۔کیا فَحَفَرْتُهَا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تم نہیں جانتے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جو جیش عسرت عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ وَ اشْتَرَطَ“ کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء۴ اصفحہ اے )