صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 128
صحيح البخاری جلده ۱۲۸ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ۳۲ : نَفَقَةُ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ اس شخص کے اخراجات جو وقف کا اہتمام کرتا ہو ٢٧٧٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۷۷۶: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوز ناد سے، ابوزناد عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلا میرے وارث درہم یا دینار (جو میں چھوڑ جاؤں) تقسیم دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي نہ کریں ۔ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام وَمَثُوْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ۔ کرنے والے کے خرچ کے بعد جو بچے وہ صدقہ ہوگا۔ اطرافه: ٣٠٩٦، ٦٧٢٩۔ ۲۷۷۷: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۷۷۷: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ بن زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی ) ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ ) اشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ نے وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِلٍ مَالًا ۔ اپنے وقف کے متعلق شرط کی کہ جو اس کا نگران ہو وہ کھائے اور اپنے دوستوں کو کھلائے مگر مال کو جمع اطرافه ۲۳۱۳، ۲۷۳۷، ۲۷۶۷، ۲۷۷۲، ۲۷۷۳ : کرنے والا نہ ہو۔ رت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت ۔ مات کے وقت کچھ نہ چھوڑا تھا اور فرمایا تھا: تشريح : نَفَقَةُ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ : آنحضرت صلى اله عليه لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ہمار اور نہ قابل تقسیم نہیں جو ہم چھوڑیں و جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ دیکھئے روایت نمبر ۴۰۳۳،۳۰۹۳، ۶۷۲۶۔