صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 127
صحيح البخارى جلده ۱۲۷ ۵۵ - كتاب الوصايا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کہا: نافع نے مجھے بتایا۔(حضرت عبد اللہ ) بن عمر أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَّهُ فِي سَبِيْلِ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اپنا ایک اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا۔{ رسول اللہ وَسَلَّمَ لَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهَا رَجُلًا فَأَخْبَرَ کو ہ گھوڑا انہوں نے دیا تھا کہ وہ کسی آدمی کو سواری کیلئے دے دیں یا پھر حضرت عمرہ کو بتایا گیا کہ اس شخص نے تو اس گھوڑے کو ( بازار میں ) کھڑا کر رکھا ہے اور عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَيْعُهَا فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ اس کو بیچ رہا ہے۔اس پر حضرت عمر نے رسول اللہ علی يَبْتَاعَهَا فَقَالَ لَا تَبْتَاعُهَا وَلَا تَرْجِعَنَّ سے دریافت کیا کہ کیا وہ اس گھوڑے کو خرید لیں؟ آپ فِي صَدَقَتِكَ۔اطرافه ۱٤٨٩، ۲۹۷۱، ۳۰۰۲ نے فرمایا: تم اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ مت لوٹاؤ۔: تشریح: وَقْفُ الدَّوَاتِ وَالْكَرَاعِ وَالْعُرُوضِ وَالصَّامِتِ: یہ باب وقف منقول کے تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔الدواب ہر قسم کے جانور پر اطلاق پاتا ہے اور کراع گھوڑوں کے لئے مخصوص ہے۔معنونہ جملہ میں خاص کو عام پر معطوف کیا گیا ہے۔عُرُوض سے سامان اور صَامِت سے مراد درہم و دینار اور چاند کی سونا ہیں۔صامت کے معنی ہیں خاموش۔یہ ناطق کی ضد ہے۔سکے معدنیات سے بنائے جاتے ہیں جو ٹھوس ہوتی ہیں اس لئے ان کے لئے لفظ صامِت استعمال کیا جاتا ہے۔زہری کے فتویٰ سے ظاہر ہے کہ اگر روپیہ بطور صدقہ جاریہ مخصوص کر کے تجارت پر لگایا جائے تو چونکہ وہ مساکین کا حق ہے، اس کے نفع سے وہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔صدقہ کرنے والے کا فائدہ اُٹھانا جائز نہیں۔موطا ابن وہب میں ان کا یہ قول مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۹۵) حضرت امام مالک اور احناف کا مذ ہب اس بارہ میں وہی ہے جو جمہور کا ہے کہ اگر ایسا صدقہ کرنے والا نادار ہو جائے تو وہ مساکین میں شمار ہو گا اور ان کے ساتھ نفع تجارت سے بقدر حصہ اسدی فائدہ اُٹھانے کا مجاز ہے اور اس کے لئے جائز نہیں کہ سارا فائدہ اپنے ہی لئے مخصوص کرے۔اس سے صدقہ کی غرض باطل ہو جائے گی۔(عمدۃ القاری جزء۴ صفحہ ۷ ) لباس بھی ایسے عروض میں سے ہے جو وقف کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کوئی عورت شادی بیاہ پر قابل استعمال فاخره لباس سلا کر اس غرض سے وقف کر دے کہ غریب عورتیں بوقت ضرورت عارضی طور پر استعمال میں لائیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۵) وعلى هذا القياس قابل انتقال دیگر اشیاء بھی وقف کی جاسکتی ہیں۔روایت نمبر ۲۷۷۵ کے لئے کتاب الهبة باب ۳۰ روایت نمبر ۲۶۲۳ بھی دیکھئے۔عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ متن میں "أَعْطَاهَا رَسُولَ اللَّهِ الله لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا“ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جز ۴ صفحہ ۷۰ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔