صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 127 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 127

صحيح البخاری جلده ۱۲۷ ۵۵- كتاب الوصايا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ (حضرت عبداللہ ) بن عمر أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَّهُ فِي سَبِيْلِ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اپنا ایک اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا۔ { رسول اللہ وَسَلَّمَ لَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهَا رَجُلًا فَأَخْبِرَ لا کو یہ ھوڑا ! کو یہ گھوڑا انہوں نے دیا تھا کہ وہ دیا تھا کہ وہ کسی آدمی کو سواری عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبيعُهَا فَسَأَلَ کیلئے دے دیں یا پھر حضرت عمر کو بتایا گیا۔ کو بتایا گیا کہ اس شخص نے تو اس گھوڑے کو (بازار میں ) کھڑا کر رکھا ہے اور رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ ☆ اس کو بیچ رہا ہے۔ اس پر حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ يَبْتَاعَهَا فَقَالَ لَا تَبْتَاعُهَا وَلَا تَرْجِعَنَّ سے دریافت کیا کہ کیا وہ اس گھوڑے کو خرید لیں؟ آپ فِي صَدَقَتِكَ۔ اطرافه: ۱٤٨٩، ۲۹۷۱، ۳۰۰۲۔ ا نے فرمایا: تم اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ مت لوٹاؤ۔ تشريح : وَقُفُ الدَّوَاتِ وَالْكَرَاعِ وَالْعُرُوضِ وَالصَّامِتِ : یہ باب وقف منقول کے تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔ الدواب ہر قسم کے جانور پر اطلاق پاتا ہے اور مراع گھوڑوں کے لئے مخصوص ہے۔ معنونہ جملہ میں خاص کو عام پر معطوف کیا گیا ہے۔ عُرُوض سے سامان اور صَامِت سے مراد درہم و دینار اور چاندی سونا ہیں۔ صامت کے معنی ہیں خاموش۔ یہ ناطق کی ضد ہے۔ سکے معدنیات سے بنائے ائے جاتے ہیں جو ٹھوس ہوتی ہیں اس لئے ان کے لئے لفظ صامت استعمال کیا جاتا ہے۔ زہری کے فتوی سے ظاہر ہے کہ اگر روپیہ بطور صدقہ جاریہ مخصوص کر کے تجارت پر لگایا جائے تو چونکہ وہ مساکین کا حق ہے، اس کے نفع سے وہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ صدقہ کرنے والے کا فائدہ اُٹھانا جائز نہیں ۔ مؤطا ابن وہب میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۹۵) حضرت امام مالک اور احناف کا مذہب اس بارہ میں وہی ہے جو جمہور کا ہے کہ اگر ایسا صدقہ کرنے والا نادار ہو جائے تو وہ مساکین میں شمار ہوگا اور ان کے ساتھ نفع تجارت سے بقد رحصہ رسدی فائدہ اُٹھانے کا مجاز ہے اور اس کے لئے جائز نہیں کہ سارا فائدہ اپنے ہی ۔ الئے مخصوص کرے۔ اس سے صدقہ کی غرض باطل ہو جائے گی ۔ (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۷۰ ) لباس بھی ایسے عروض میں سے ہے جو د ہے جو وقف کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً کوئی عورت شادی بیاہ بہ عورت شادی بیاہ پر قابل استعمال فاخره لباس سلا کر اس غرض سے وقف کر دے کہ غریب عورتیں بوقت ضرورت عارضی طور پر ا عورتیں بوقت ضرورت عارضی طور پر استعمال میں لائیں ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۵) وعلى هذا القياس قابل انتقال دیگر اشیاء بھی وقف کی جاسکتی ہیں۔ روایت نمبر ۲۷۷۵ کے لئے کتاب الهبة باب۳۰ روایت نمبر ۲۶۲۳ بھی دیکھئے۔ لاعمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ متن میں "أَعْطَاهَا رَسُولَ اللهِ ﷺ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا“ کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۴۰ صفحہ ۷۰ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔