صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 126
صحيح البخارى جلده ۵۵ - كتاب الوصايا ثَامِنُوْنِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوْا لَا وَاللهِ بنی نجارا مجھ سے تم اپنے اس باغ کی قیمت کا تصفیہ کرلو۔انہوں نے کہا: نہیں۔اللہ کی قسم! ہم اس کی لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ۔قیمت اللہ ہی سے لیں گے۔اطرافه: ٢٣٤ ، ٤٢٨ ٤٢٩ ١٨٦٨، ۲۱٠٦، ۲۷۷۱، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲ تشریح: وَقُفُ الْأَرْضِ لِلْمَسْجِدِ : حضرت امام ابوحنیفہ نے زمین کے وقف کی ضرورت تسلیم نہیں کی۔امام زفر کے سوا امامین اور باقی فقہاء احناف ان کی اس رائے سے متفق نہیں۔(فتح الباری، کتاب الوصایا شرح باب ۲۸، جزء ۵ صفحه ۴۹۲،۴۹۱) مسجد بنانے اور اس کے اخراجات کا انتظام رکھنے کی غرض سے وقف اراضی کا مسئلہ سب کو مسلم ہے۔یہ قبل ازیں بتایا جاچکا ہے کہ امام بخاری وقف اراضی کے عدم جواز سے متعلق امام ابو حنیفہ کی رائے کے خلاف ہیں۔ابن منیر کا خیال ہے کہ امام موصوف نے عنوانِ باب مصدر یہ رکھ کر امام ابوحنیفہ کی رائے کی عدم صحت کے بارے میں اشارہ کیا ہے کہ مسجد کے لئے وقف کی خصوصیت نہیں۔بلکہ ہر نیک غرض کے لئے اراضی وقف کی جاسکتی ہے۔زیر باب روایت سے ظاہر ہے کہ حاصل کردہ زمین پہلے وقف ہوئی اور مسجد وہاں بعد میں بنائی گئی اور اس کے وقف کا استدلال بنو نجار کے ان الفاظ سے کیا گیا ہے۔لَا وَاللهِ لَا تَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴ ۴۹) بَاب ۳۱ : وَقْفُ الدَّوَاتِ وَالْكُرَاعِ وَالْعُرُوضِ وَالصَّامِتِ جانوروں، گھوڑوں ،سامانوں اور نقد سونا چاندی کو وقف کرنا وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِيْمَنْ جَعَلَ أَلْفَ دِينَارٍ زُہری نے ایسے شخص سے متعلق کہا جس نے اللہ کی راہ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَدَفَعَهَا إِلَى غُلَامٍ لَّهُ میں ایک ہزار اشرفیاں مخصوص کر کے اپنے ایک تاجر تَاجِرٍ يَتَّجِرُ بِهَا وَجَعَلَ رِبْحَهُ صَدَقَةٌ غلام کے سپرد کر دیں کہ وہ اس سے تجارت کرے اور لِلْمَسَاكِيْنِ وَالْأَقْرَبِيْنَ هَلَّ لِلرَّجُلِ أَنْ اِس کے نفع سے مسکینوں اور قریبیوں کے لئے صدقہ يَأْكُلَ مِنْ رِبْحِ تِلْكَ الْأَلْفِ شَيْئًا وَإِنْ کرے؛ کیا ایسے شخص کے لئے جائز ہے کہ ان ہزار اشرفیوں کے نفع سے خود کچھ کھائے؟ اور اگر وہ ان کے لَّمْ يَكُنْ جَعَلَ رِبْحَهَا صَدَقَةً فِي نفع میں سے مسکینوں کو صدقہ نہ دے؟ انہوں نے کہا: الْمَسَاكِيْنِ قَالَ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا۔اس کیلئے جائز نہیں کہ اس میں سے خود کچھ کھائے۔٢٧٧٥ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۷۷۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ کئی ( قطان ) يَحْيَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ (عمری ) نے ہم سے بیان کیا،