صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 125 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 125

صحيح البخاری جلده ۱۲۵ ۵۵- كتاب الوصايا باب ۲۹ : الْوَقْفُ لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيْرِ وَالضَّيْفِ غنی ، فقیر اور مہمان کے لئے وقف کرنا ۲۷۷۳ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ۲۷۷۳: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ ) ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَدَ مَالًا بِخَيْبَرَ نے (حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت عمر کو خیبر میں ایک جائیداد فَأَخْبَرَهُ قَالَ إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا ملی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کو صدقہ میں دے دو۔ صلى الله فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ چنانچہ انہوں نے اس کو محتاجوں ہمسکینوں ، رشتہ داروں وَذِي الْقُرْبَى وَالضَّيْفِ۔ اور مہمانوں کے لئے صدقہ (یعنی وقف ) کر دیا۔ اطرافه ۲۳۱۳، ۲۷۳۷، ۲۷۶۴، ۲۷۷۲، ۲۷۷۷۔ تشريح: الْوَقْفُ لِلْغَنِي وَالْفَقِيرِ وَالصَّيْفِ : غنی کے وقف سے استفادہ کا استدلال ذوی القربیٰ کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ فقرہ سب رشتہ داروں ؟ پر حاوی ہے خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ۔ حضرت عمر کا وقف اسلام میں پہلا وقف ہے جس کی باقاعدہ تحریر اور وصیت ہوئی۔ باب ۳۰ : وَقْفُ الْأَرْضِ لِلْمَسْجِدِ مسجد کے لئے زمین وقف کرنا ٢٧٧٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۷۷۴ : الحق ( بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا کہ اپنے عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ باپ ( عبد الوارث ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ابو تیاح رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا کہ حضرت انس بن مالک صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَ نے مجھے بتایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ بِالْمَسْجِدِ وَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ میں آئے تو آپ نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور فرمایا: (مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمر ، جزء ۲ صفحه ۱۵۶)