صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 124
صحيح البخاری جلده ۱۲۴ ۵۵- كتاب الوصايا حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل جائیداد کو وقف کر دو اور اس فَتَصَدَّقَ عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا کی آمد صدقہ میں دے دو۔ چنانچہ حضرت عمر نے وہ صدقہ يُؤْهَبُ وَلَا يُورَثُ فِي الْفُقَرَاءِ میں ان شرطوں پر دے دی کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللہ نہ ہبہ کی جائے نہ ترکہ میں کس کو لے اس کی آمد محتاجوں، رشتہ داروں ، غلاموں کو آزاد کرنے ، اللہ کے راستہ میں وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيْلِ لَا جُنَاحَ عَلَى خرچ کرنے کے لئے، مہمانوں اور مسافروں کے مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ اخراجات کے لئے وقف رہے اور جو اس کا نگران ہو يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوّلٍ فِيْهِ۔ وہ اس میں سے مناسب طور پر خود کھائے یا کسی دوست کو کھلائے ، مگر اس سے مال جمع نہ کرے۔ اطرافه: ۲۳۱۳، ۲۷۳۷، ٢٧٦٤، ٢٧٧٣، ٢٧٧٧۔ تشريح : الوَقْفُ كَيْفَ يُكْتَبُ : وقف نامہ کی صورت روایت زیر باب سے والہ باب سے واضح ہے کہ ہر قابل ذکر شئے کی اس میں تصریح موجود ہے۔ فِي سَبِيلِ اللہ کا ارشاد وسیع ہے اور مہمان بھی اسی کی ذیل میں آجاتے ہیں ۔ غَيْرَ مُتَمَوِلٍ فِيْهِ أَى لَا يَتَمَلَّكَ شَيْئًا مِنْ رِقَابِهَا - ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۱) یعنی وہ وقف کا مالک نہیں ہو جاتا کہ اصل جائیداد ذریعہ کسب بن جائے ۔ ایک روایت میں غَيْرَ مَتاثِلِ کے الفاظ ہیں لے جس کے یہی معنے ہیں کہ وقف کو جائیداد بنانے کا ذریعہ نہ بنائے اور يَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ میں اس طرف اشارہ ہے کہ حاجت مند متولی اکل و شرب اور لباس میں مناسب صورت سے متجاوز نہ ہو۔ حضرت عمرؓ کے وقف نامہ کا ایک نسخہ عمر بن شبہ نے ابو غسان سے نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے اصل وصیت نامہ حرف بحرف لکھا ہے ۔ هَذَا مَا كَتَبَ عَبْدُ اللهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي ثَمُعْ أَنَّهُ إِلَى حَفْصَةَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللَّهُ فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِلَى ذَوِي الرَّأْي مِنْ أَهْلِهَا یعنی حضرت حفصہ ( ان کی بیٹی ) شمع کے وقف کی متولی ہوں گی۔ جہاں اللہ انہیں سمجھائے ، اس کے حاصلات سے خرچ کریں گی اور ان کی وفات کے بعد ان کے خاندان میں سے اہل الرائے کے مشورہ سے اس کی نگرانی کا انتظام ہوگا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۹۱) (بخاري، كتاب الشروط ، باب :١٩: الشروط في الوقف (ابوداؤد، كتاب الوصايا، باب ما جاء في الرجل يوقف الوقف (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الوقف، باب الصدقات المحرمات، جزء ۶ صفحه ۱۶)