صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 122 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 122

صحيح البخارى جلده ۱۲۲ ۵۵ - كتاب الوصايا مَّالِكِ رَايح تقسیم کر دیا۔اسمعیل ( بن ابی اولیس)، عبداللہ بن يوسف اور تحي بن سحمي نے مالک سے روایت کرتے ہوئے (رابح کی جگہ ) رابع نقل کیا۔اطرافه: ۱٤٦١ ، ۲۳۱۸ ، ۲۷۲، ۲۷۸، 40، 4000، 5611 :۲۷۷۰ حَدَّثِنَي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ۲۷۷۰ محمد بن عبد الرحیم نے مجھ سے بیان کیا کہ روح الرَّحِيْمِ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا بن عبادہ نے ہمیں خبر دی۔(انہوں نے کہا: ) زکریا بن زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الحق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْن مجھے بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری ماں فوت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ہوگئی ہے تو کیا میرا اس کی طرف سے صدقہ دینا اسے نفع أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔اس نے کہا: میرا کھجوروں قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ لِي مِخْرَافًا فَأَنَا کا ایک باغ ہے اور میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں أُشْهِدُكَ أَنِّي تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا۔نے اپنی ماں کی طرف سے وہ صدقہ میں دے دیا۔اطرافه: ٢٧٥٦، ٢٧٦٢ تشریح: إِذَا وَقَفَ أَرْضًا وَلَمْ يُبَيِّنِ الْحُدُودَ : جہاں وقف کی تعیین اور اس کے لئے شہادت کی ضرورت ہو کہ تا دوسرے کی ملحقہ زمین میں سے اس میں کچھ شامل نہ ہو جائے وہاں تو حد بندی اور شہادت کی ضرورت ہے۔لیکن جو جائیداد الگ تھلگ ہو اور لوگوں کو اس کا علم ہو، وہاں حدود قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔یہی مذہب حضرت امام شافعی کا ہے اور جمہور کا بھی یہی مذہب ہے۔عنوانِ باب سے ظاہر ہے کہ حضرت امام بخاری بھی انہی کی تائید میں ہیں۔اس تعلق میں باب ۱۴ کی تشریح بھی دیکھئے۔باب کی دونوں روایتیں زیر باب ۱۵،۱۰، ۱۷، ۱۹ گذر چکی ہیں۔وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ۔۔۔۔۔یعنی اسی سند سے انہوں نے کہا۔