صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 121
صحيح البخارى جلده ۱۲۱ ۵۵ - كتاب الوصايا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک دی ہے۔ابْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ سنا۔وہ کہتے تھے : ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصاریوں سے أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ کھجوروں کے باغ زیادہ رکھتے تھے اور ان کو سب سے مَالًا مِنْ نَخْلِ وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُ حَاءَ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ زیادہ پیاری جائیداد بیرحاء کا باغ تھا۔جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی ﷺ اس میں آیا کرتے تھے اور وہاں کا صاف ستھرا پانی پیا کرتے تھے۔حضرت انس کہتے تھے: جب النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا آیت اتری کہ تم کامل نیکی کو اس وقت تک نہیں پاسکو وَيَشْرَبُ مِنْ مَّاءٍ فِيْهَا طَيِّبِ قَالَ أَنَسٌ گے جب تک کہ تم اپنی پیاری چیزوں میں سے خرچ نہ فَلَمَّا نَزَلَتْ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى کرو۔ابو طلحہ کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران : ۹۳) قَامَ فرماتا ہے: تم نیکی کو ہرگز نہیں پا سکو گے جب تک تم اُن أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللهَ چیزوں کو نہ خرچ کرو جن سے تم محبت رکھتے ہو۔اور میری يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا جائیداد میں سے مجھے سب سے پیارا باغ بیرحاء ہے اور وہ اللہ کیلئے صدقہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ مقبول تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُ حَاءُ بَکی ہوگی اور اللہ تعالی کے حضور بطور ذخیرہ کے ہوگی۔وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُوْ بِرَّهَا وَذُخْرَهَا اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھائے ، وہاں اسے عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ فَقَالَ خرچ کریں۔آپ نے فرمایا: شاباش! یہ فائدہ دینے والا بَحْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَايِحٌ شَكَ ابْنُ مال ہے یا فرمایا: ہمیشہ رہنے والا مال ہے۔ابن مسلمہ نے مَسْلَمَةَ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي اس بارے میں شک کیا ( کہ آنحضرت نے ان دونوں أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِيْنَ قَالَ الفَاظِ رَابِحٌ يارايح میں سے کونسا لفظ استعمال فرمایا) أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ ذَلِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ پھر آپ نے فرمایا: جو تم نے کہا ہے میں نے سن لیا ہے۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے قریبیوں میں ہی فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَفِي بانٹ دو۔ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ ! حضور کے ارشاد بَنِي عَمِّهِ وَقَالَ إِسْمَاعِيْلُ وَعَبْدُ اللَّهِ کی تعمیل میں ایسے ہی کئے دیتا ہوں۔چنانچہ ابوطلحہ نے ابْنُ يُوْسُفَ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى عَنْ اس باغ کو اپنے قریبیوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں