صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 120 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 120

صحيح البخاری جلده ۱۲۰ ۵۵- كتاب الوصايا فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي آئے ۔ آپ کا کوئی خادم نہ تھا۔ حضرت ابوطلحہ نے میرا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کے پاس گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! انس سمجھدار لڑکا ہے۔ یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس كَيْسٌ فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي کہتے تھے: چنانچہ میں نے سفر میں بھی آپ کی خدمت السَّفَرِ وَالْحَضَرِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ کی اور حضر میں بھی۔ جو کا۔ جو کام بھی میں کرتا آپ مجھے کبھی صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا وَلَا نہ فرماتے تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور جو کام لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا میں نے نہ کیا ہو، اس کی نسبت آپ مجھے کبھی نہ فرماتے کہ تم نے اس کو اس طرح کیوں نہیں کیا۔ هَكَذَا۔ اطرافه: ٦٠٣٨، ٦٩١١۔ تشريح : اسْتِخْدَامُ الْيَتِيمِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ: عام طو پر یقیوں سے گھ کا کام کاج لیا جاتا ہے اور ان سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے جس سے وہ غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان کے اخلاق بھی پست ہو جاتے ہیں۔ اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے حضرت انس سے جو کمسن تھے کیا سلوک فرمایا اور آپ کی اعلیٰ تربیت سے جو برکتیں انہیں حاصل ہوئیں وہ تاریخ اسلامی کا سنہری باب ہیں۔ کتاب الجہاد باب ۷۴ میں ذکر ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے جانے لگے تو حضرت ابو طلحہ حضرت انس کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ لڑکا سفر میں حضور کی خدمت کرے گا اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ا مدینہ تشریف لائے تو حضرت انس کی والدہ ان کو آپ کے پاس لائیں۔ اس لئے عنوانِ باب میں ماں اور باپ دونوں کا ذکر ماں اور باپ دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت انس حضرت ام سلیم کے پہلے خاوند سے تھے۔ اس لئے وہ باپ کی طرف سے یتیم تھے۔ جب ان کی والدہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی تھیں، اس وقت ان کی عمر دس سال تھی اور جب وہ فوت ہوئے ، اس وقت ان کی عمر ۱۲۰ سال تھی ۔ بصرہ میں ان کا انتقال ہوا ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴ ۴۸ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۴۰ صفحه ۶۶ ) باب ٢٦ : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا وَلَمْ يُبَيِّنِ الْحُدُوْدَ فَهُوَ جَائِزٌ وَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ اگر کوئی زمین وقف کرے اور اس کی حدیں کھول کر بیان نہ کرے تو یہ (وقف) جائز ہوگا اور اسی طرح صدقہ بھی ٢٧٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۷۶۹ : عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مالک سے ، مالک نے اسحق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے