صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 119
صحيح البخارى جلده 119 ۵۵ - كتاب الوصايا بعض شارحین کے نزدیک واضح نہیں۔کیونکہ ان دونوں لفظوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ہر ایک کا اشتقاق جدا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحه ۶۴ - ۶۵) امام ابن حجر کے نزدیک ان کی یہ تشریح لفظی مشابہت کی وجہ سے ضمنی ہے اور آیت وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوم (طه: ۱۱۲) کی طرف اشارہ ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۳۸۲) مگر قارئین حضرات بار بار ملاحظہ کر چکے ہیں کہ حضرت امام بخاری بلا وجہ لغوی تشریح نہیں کرتے بلکہ ان کے بیان میں خاص حکمت ہوتی ہے۔در حقیقت عَنَتْ کا لفظ بطور تشریح استعمال کرنے سے ان کا مقصد ارشاد باری تعالیٰ وَإِن تُخَالِطُوْهُمْ فَإِخْوَانُكُم (البقرة: ۲۳۱) کے مفہوم کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یتامیٰ کی بود و باش ذلت والی نہ ہو۔بلکہ اخوت و مساوات والی ہو اور اسی وجہ سے عنوانِ باب میں حوالے دیے گئے ہیں کہ یتامیٰ کا وصی مقرر کرنے کا طریق ان کی نگرانی، تربیت اور خیر خواہی کے لئے جاری کیا گیا ہے۔پہلا حوالہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے متعلق ہے کہ وہ بخوشی یتیم کا وصی بننا قبول کرتے تھے اور انہوں نے کبھی اس بارے میں کسی کی درخواست رد نہیں کی۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : آنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ * یعنی میں اور یتیم کا ولی جنت میں اس طرح ہوں گے اور دو انگلیاں اکٹھی کر کے اس کا اظہار فرمایا۔دوسرا حوالہ ابن سیرین کا ہے جو اپنے مفہوم میں واضح ہے۔تیسرا حوالہ طاؤس بن کیسان تابعی کا ہے۔اس میں بحوالہ آیت یہی صراحت ہے کہ یتامی کی اچھی تربیت مد نظر رہے۔چوتھا حوالہ عطاء بن ابی رباح کے قول کا ہے جس کا تعلق نفقات کی عادلانہ تقسیم و نگرانی سے ہے کیونکہ انفاق میں انصاف ملحوظ نہ رکھنے سے بھی ذلت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اخلاق بگڑتے ہیں۔غرض یہ چاروں حوالے جہاں معنونہ آیت کی پوری تشریح کرتے ہیں۔وہاں مشار الیہ لغوی تشریح کے موقع محل کو بھی واضح کرتے ہیں۔بَاب ٢٥ : اسْتِخْدَامُ الْيَتِيمِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ إِذَا كَانَ صَلَاحًا لَّهُ وَنَظَرُ الْأُمِّ أَوْ زَوْجِهَا لِلْيَتِيم یتیم سے سفر اور حضر میں خدمت لینا جبکہ یہ اس کے لئے بھلائی کا موجب ہو اور ماں یا اس کے خاوند ( سوتیلے باپ) کا یتیم کی دیکھ بھال کرنا ٢٧٦٨ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ :۲۷۶۸ یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے ہم سے إِبْرَاهِيْمَ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ بیان کیا کہ (اسماعیل) بن علیہ نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ (انہوں نے کہا: ) عبدالعزیز ( بن صہیب ) نے ہمیں عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں (بخاری، كتاب الأدب، باب فضل من يعول يتيما، روایت نمبر ۲۰۰۵)