صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 118
صحيح البخارى جلده ۱۱۸ ۵۵ - كتاب الوصايا نَّافِعِ قَالَ مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَصِيَّتَهُ وَكَانَ ابْنُ سِيْرِيْنَ أَحَبَّ ( حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کسی کا وصی بننے سے کبھی الْأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ الْيَتِيمِ أَنْ يُجْتَمِعَ انکار نہیں کیا۔اور ( محمد ) بن سیرین (تابعی) کو تمام باتوں میں سے یہ بات زیادہ پسند تھی کہ یتیم کے مال کا بندوبست إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ فَيَنْظُرُوا الَّذِي کرنے کیلئے ان کے پاس اس کے خیر خواہ اور اس کے هُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَكَانَ طَاوُسٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ متولی اکٹھے ہوں اور اکٹھے ہو کر اس بات پر غور کریں جو شَيْءٍ مِّنْ أَمْرِ الْيَتَامَى قَرَأَ وَاللهُ يَعْلَمُ اس کیلئے بہتر ہو۔اور طاؤس ( بن کیسان تابعی ) سے الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَقَالَ عَطَاءٌ فِي جب تیموں سے معاملہ کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہ يَتَامَى الصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْر يُنْفِقُ الْوَلِيُّ آیت پڑھا کرتے کہ اللہ مفسد کو بھی جانتا ہے اور مصلح کو بھی۔اور عطاء بن ابی رباح) نے چھوٹے بڑے عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِصَّتِهِ۔تیموں کے بارے میں کہا کہ متولی ہر ایک انسان پر اس کے حصہ میں سے اندازے کے مطابق خرچ کرے۔تشریح : وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتَمَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ : یامی کے حقوق دو طریق سے ضائع ہوا کرتے تھے۔ایک ورثہ کے قدیم دستور سے کہ جس میں صرف ان مردوں کو ورثہ ملتا تھا جو جنگ اور مال غنیمت حاصل کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔اس طریق سے اولاد کا کثیر حصہ محروم رہ جاتا تھا۔دوسرا طریق سرپرست کے ناجائز فائدہ اُٹھانے سے جس کا ذکر باب ۲۱ تا ۲۳ میں محولہ آیات (سورۃ النساء : ۳ تا ۱۱ ۱۲۸ ) میں ابھی گذر چکا ہے۔اس باب میں بیتامی کی پرورش کی مثبت صورت واضح کی گئی ہے کہ انہیں صالح اور مفید وجود بنایا جائے اور خاندان کا حصہ سمجھ کر ان سے وہی سلوک کیا جائے جو اپنی اولا د اور بھائیوں سے کیا جاتا ہے۔لأغنتكُمْ: عَنِت کے معنی ہوتے ہیں۔لَقِيَ الشَّدَّةَ أَوْ وُقِعَ فِي أَمْرِ شَاق بختی جھیلی یا مشکل امر میں پڑ گیا۔اس سے فعل متعدی أَفْعَلَ کے وزن پر اغنٹ آتا ہے۔جس کے معنی ہوں گے مشقت میں ڈال دیا اور مراد یہ ہے کہ یتامیٰ سے متعلق ایسے احکام جاری کر دیئے جاتے کہ ان کی تعمیل میں مشکلات کا سامنا ہوتا۔العنت کے معنی ہیں فساد، گناہ، ہلاکت، خطاء غلطی اور ارتکاب زنا۔اور محنت کے معنی ہیں ذَلَّتْ وَخَضَعَت۔اس کا اصل عَنَا يَعْنُو ہے اور عَنَتُ میں تاء فعل مؤنث کے لئے ہے۔لیکن عُنَتَ میں تاؤ اصل لفظ کا حصہ ہے۔عَنا يَعْنُو کے معنی ہوتے ہیں خضع وہ جھک گیا اور اس نے تواضع اور عاجزی کا اظہار کیا۔(دیکھئے اقرب الموارد - عنت ، عنو ) حضرت امام بخاری نے لا غنتَكُمْ کی لغوی تشریح لأخْرَجَكُمْ کے الفاظ سے کی ہے۔اس کے بعد عنت کا لفظ رکھ کر اس کی تشریح خَضَعَت سے کی ہے۔یہ تفسیر