صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 118 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 118

صحيح البخاری جلده ۱۱۸ ۵۵- كتاب الوصايا نَّافِعٍ قَالَ مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَصِيَّتَهُ وَكَانَ ابْنُ سِيْرِيْنَ أَحَبَّ (حضرت عبداللہ بن عمر نے کسی کا وصی بننے سے کبھی الْأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ الْيَتِيْم أَنْ يَجْتَمِع انکار نہیں کیا۔ اور (محمد بن سیرین ) اور ( محمد ) بن سیرین (تابعی) کو تمام باتوں إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ فَيَنْظُرُوا الَّذِی میں سے یہ بات زیادہ پسند ھی کہ تیم کے مال کا بندوبست کرنے کیلئے ان کے پاس اس کے خیر خواہ اور اس کے هُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَكَانَ طَاوُسٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ متولی اکٹھے ہوں اور اکٹھے ہو کر اس بات پر غور کریں جو شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْيَتَامَى قَرَأَ وَاللهُ يَعْلَمُ اس کیلئے بہتر ہو۔ اور طاؤس ( بن کیسان تابعی ) سے الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِح وَقَالَ عَطَاءٌ فِي جب تیموں سے معاملہ کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہ يَتَامَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيْرِ يُنْفِقُ الْوَلِيُّ آیت پڑھا کرتے کہ اللہ مفسد کو بھی جانتا ہے اور صلح کو بھی۔ اور عطاء بن ابی رباح) نے چھوٹے بڑے عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِيَّتِهِ۔ تیموں کے بارے میں کہا کہ متولی ہر ایک انسان پر اس کے حصہ میں سے اندازے کے مطابق خرچ کرے۔ تشريح : وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْيَعْمَى قُلْ اِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ: پانی کے حقوق دو طریق سے ضائع ہوا کرتے تھے۔ ایک ورثہ کے قدیم دستور سے کہ جس میں صرف ان مردوں کو مردوں کو ورثہ ملتا تھا جو جنگ اور مال غنیمت حاصل کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔ اس طریق سے اولاد کا کثیر حصہ محروم رہ جاتا تھا۔ دوسرا طریق سرپرست کے ناجائز فائدہ اُٹھانے سے جس کا ذکر باب ۲۱ تا ۲۳ میں محولہ آیات ( سورۃ النساء : ۳ تا ۱۱، ۱۲۸) میں ابھی گزر چکا ہے۔ اس باب میں یتامی کی پرورش کی مثبت صورت واضح کی گئی ہے کہ انہیں صالح اور مفید وجود بنایا جائے اور خاندان کا حصہ سمجھ کر ان سے وہی سلوک کیا جائے جو اپنی اولاد اور بھائیوں سے کیا جاتا ہے۔ لأَعْنَتَكُمْ : عَنِتَ کے معنی ہوتے ہیں۔ لَقِيَ الشَّدَّةَ أَوْ وُقِعَ فِي أَمْرِ شَاقِ سختی جھیلی یا مشکل امر میں پڑ گیا۔ اس سے فعل متعدی أَفْعَلَ کے وزن پر أَعْنَتَ آتا ہے۔ جس کے معنی ہوں گے مشقت میں ڈال دیا اور مراد یہ ہے کہ یتامی سے متعلق ایسے احکام جاری کر دیئے جاتے کہ ان کی تعمیل میں مشکلات کا سامنا ہوتا۔ الْعَنَتُ کے معنی ہیں فساد، گناہ، ہلاکت، خطاء غلطی اور ارتکاب زنا۔ زنا۔ اور عنت کے معنی ہیں ذَلَّتُ وَخَضَعَتْ ۔ اس کا اصل عَنَا يَعْنُو ہے اور عَنتْ میں تاء فعل مؤنث کے لئے ہے۔ لیکن عنت میں تاء اصل لفظ کا حصہ ہے۔ عَنَا يَعْنُو کے معنی ہوتے ہیں خضع وہ جھک گیا اور اس نے تواضع اور عاجزی کا اظہار کیا۔ (دیکھئے اقرب الموارد - عنت ، عنو ) حضرت امام بخاری نے لا غنتكُم کی لغوی تشریح لأَخْرَجَكُمْ کے الفاظ سے کی ہے۔ اس کے بعد عَنت کا لفظ رکھ کر اس کی تشریح خَضَعَت سے کی ہے۔ یہ تفسیر