صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 117 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 117

صحيح البخارى جلده 112 ۵۵ - كتاب الوصايا بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرّبَا وَأَكْلُ مَالِ شرک باللہ اور جادو اور اس جان کو ناحق مارنا جس کے الْيَتِيمِ وَالتَّوَلّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ مارنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود اور یتیم کا مال کھانا اور کافروں سے مقابلہ کے دن بھاگنا اور الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔اطرافه: ٥٧٦٤، ٠٦٨٥٧ تشریح: د ان پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا جو مومن ہیں اور جنہیں کسی بات کا پتہ نہیں۔الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتمى ظُلُما : معنونہ آیت انہیں آیات کے تسلسل میں ہے جن کا حوالہ سابقہ ابواب میں دیا گیا ہے۔آیت محولہ بالا بلحاظ انذار نہایت شدید ہے اور آگ کھانے کا مفہوم الْمُوبِقَات سے بیان کیا گیا ہے کہ تیموں کا مال کھانا تباہی کا موجب ہوگا۔آخرت میں اعمال پر ثواب و عقاب تمثلات کی صورت میں ظاہر ہو گا۔اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلدها صفحه ۴۱۲ تا ۴۱۳، ۴۲۲ تا ۴۲۵ نیز سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۱ تا ۱۶۱ - اس دنیا میں بھی ظلم اپنا انجام ہلاکت خیز صورت میں دکھاتا ہے۔جو قوم قیموں کی پرورش نظر انداز کرتی ہے اور اپنے افراد کو جوان کے اموال میں بے جا تصرف کرتے ہیں نہیں روکتی اور اصلاح حال نہیں کرتی ؛ آخر وہ تباہ ہو جاتی ہے۔بَاب ٢٤ : وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتَى قُلْ إِصْلَاحُ لَهُمْ خَيْرٌ اللہ تعالیٰ کا فرمانان) تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو کہ ان کی اصلاح بہت اچھا کام ہے وَاِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ بھائی ہیں اور اللہ مفسد کو بھی جانتا ہے اور مصلح کو بھی اللهُ لَاَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشکلات میں ڈال دیتا۔یقیناً (البقرۃ: ۲۲۱) اللہ عزیز اور حکیم ہے۔لَاعْنَتَكُمْ لَأَخْرَجَكُمْ وَضَيَّقَ عَلَيْكُمْ لَاعْتَتَكُم کے معنی ہیں تم کو تنگی میں ڈال دیتا اور عنت کے معنی ہیں جھک گیا۔وَعَنَتْ خَضَعَتْ۔٢٧٦٧: وَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ ابْنُ ۲۷۶۷: (امام بخاری کہتے ہیں:) اور سیلیمان بن حرب حَرْبِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نے ہمیں کہا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب