صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 116 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 116

صحيح البخارى جلده IM ۵۵ - كتاب الوصايا تشريح : وَمَا لِلْوَصِيَ أَنْ يُعْمَلَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْهُ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ: فَتَبَاءَ نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ یتیم کا نگران یا وقف کا متولی کس حد تک تولیت یا وقف کے اموال سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ بعض کے نزدیک بقدر قوت لایموت اور بعض کے نزدیک عام دستور کے مطابق فائدہ اُٹھانے کی اسے اجازت ہے۔بشرطیکہ وہ فی الواقع محتاج ہو اور اس کے گزارہ کی کوئی اور صورت نہ ہو اور جب اس کی مالی حالت اچھی ہو تو وہ واپس کرے۔اس ضمن میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : أَنزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَّالِ اللَّهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ فَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَغْفَفْتُ وَإِن افْتَقَرْتُ أَكَلْتُ بِالْمَعْرُوفِ وَإِذَا أَيْسَرُتُ قَضَيْتُ یعنی اموال زکوۃ کی نگرانی میں میری حیثیت یتیم کے متولی کی سی ہے۔غنی ہونے کی حالت میں میں کچھ نہیں لیتا اور بحالت محتاجی بقدر ضرورت لیتا ہوں اور کشائش ہونے پر ادا کر دیتا ہوں۔حضرت امام شافعی کے نزدیک واپس کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ تنگدستی کی حالت میں متولی نے اپنی خدمت کی اُجرت لی ہے۔جس کی شرعاً اجازت دی گئی ہے۔(عمدۃ القاری، کتاب الوصایا شرح با ۲، جزء ۱۴ صفحه ۵۹،۵۸) اور یہی مذہب صحیح اور باب کا اصل موضوع ہے۔اموال اوقاف کا بھی اسی پر قیاس کر لیا گیا ہے۔باب ۲۳: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ اَمْوَالَ الْيَتَى ظُلمًا اِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (النساء: ۱۱) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ یقینا اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں اور وہ ضرور بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے ٢٧٦٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۷۶۲ عبدالعزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ انہوں نے کہا کہ سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔بِلَالٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِي عَنْ انہوں نے ثور بن زید مدنی سے، انور نے ابوالغیث سے، أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابوالغیث نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوا ہوئے بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: سات برباد يَا رَسُوْلَ اللهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشَّرْكُ کرنے والے گناہوں سے بچتے رہو۔صحابہ نے عرض اب و سنن الكبرى للبيهقي ، كتاب البيوع، باب من قال يقضيه إذا أيسر، جزء 1 صفحيم) (معرفة السنن والآثار، كتاب قسم الفيء والغنيمة، باب رزق الوالي، جزءا ا صفحه ۱۱۵)