صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 115
صحیح البخاری جلده ۱۱۵ ۵۵- كتاب الوصايا وَكَانَ يُقَالُ لَهُ ثَمْعٌ وَكَانَ نَخْلًا فَقَالَ جسے شمع کہتے تھے اور وہ کھجور کا باغ تھا۔ حضرت عمر نے کہا: عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا يا رسول اللہ ! میں نے ایک مال حاصل کیا ہے وہ میرے وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ نزدیک بہت عمدہ ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو صدقہ میں دے دوں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اصل مال کو بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس شرط پر صدقہ میں دے دو کہ وہ نہ بیچا جائے اور نہ تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ وَلَا يُرْهَبُ وَلَا یہ کیا جائے نہ ورثہ میں دیا جائے بلکہ اس کے پھل کو يُورَثُ وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ فَتَصَدَّقَ بِهِ خرچ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے صدقہ میں عُمَرُ فَصَدَقَتُهُ تِلْكَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَفِي دے دیا اور ان کا صدقہ اللہ کی راہ میں، غلاموں کے الرِّقَابِ وَالْمَسَاكِينِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ آزاد کرنے میں اور مسکینوں، مہمانوں، مسافروں اور کے لئے وقف تھا اور جو اس کا نگران ہو السَّبِيْلِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَلَا جُنَاحَ عَلَى رشتہ داروں کے ۔ مَنْ وَّلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوْفِ أَوْ اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس میں مناسب طور پر دستور کے مطابق خود کھائے یا اپنے دوست کو کھلائے۔ يُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوّلٍ بِهِ۔ مگر یہ نہ ہو کہ اپنے لئے اس میں سے مال جمع کرے۔ اطرافه ۲۳۱۳، ۲۷۳۷، ۲۷۷۲، ۲۷۷۳، ۲۷۷۷ ٢٧٦٥ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۷۶۵ عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَنْ كَانَ نے اپنے باپ ( عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا رضى اللہ عنہا سے روایت کی کہتی تھیں کہ یہ آیت وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا ۔ یعنی جو حاجت مند نہ ہو، اسے چاہیے کہ فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: ٧) وہ اس مال کے استعمال سے کلی طور پر اجتناب کرے قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ أَنْ لیکن جو نادار ہو وہ مناسب طور پر ( اس مال میں سے ) يُصِيْبَ مِنْ مَّالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا کھائے؛ یتیم کے متولی کے بارے میں نازل ہوئی کہ بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوْفِ۔ اطرافه: ٢٢١٢، ٤٥٧٥ اگر وہ حاجت مند ہو تو اس کے مال سے بقدر حاجت مناسب طور پر اندازہ کر کے لے لے۔