صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 114
صحيح البخاری جلده ۱۱۴ ۵۵- كتاب الوصايا نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْأَقْرَبُونَ ان کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں ایک مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا حصہ ہے؛ خواہ اس ترکہ میں سے تھوڑا ہی ہو یا بہت ۔ یہ ایک معین حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا (النساء: ۷-۸) حَسِيبًا يَعْنِي كَافِيًا۔ گیا ہے۔ حَسِيبًا کے معنی ہیں کافی ۔ تشريح : فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ: پانی کے تولی کی حیثیت بھی اوقاف کے متولی کی سی ہے۔ دونوں کے لئے جائز ہے کہ اگر ان کے گزارہ کی صورت نہ ہو اور وہ حاجت مند ہوں تو اپنی نگرانی کی خدمت کا حق آمد سے بقدر کفایت لے سکتے ہیں۔ محولہ بالا آیت میں لفظ حَسِيبًا کے معنی كَافِيًا کر کے جہاں کم از کم مقدار کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وہاں سابقہ مسئلہ (مذکورہ باب (۲۰) شہادت وقف کے بارے میں بھی یہ آیت بطور تائید پیش کی گئی ہے اس میں فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ کا ارشاد وارد ہوا ہے۔ کیونکہ اس میں بھی لین دین کا ہی معاملہ ہے اور یتامی کے اموال میں تولیت اور ان سے متعلقہ آمد و خرچ کا حساب رکھتے ہی سے مطلوبہ شہادت صحیح قرار پاسکتی ہے۔ محض یہ مراد نہیں کہ یونہی یتیم کی جائیداد اس کے حوالے کر کے گواہ ٹھہرائے جائیں۔ اس نکتہ کی طرف توجہ منعطف کرانے کے لئے آئندہ باب کے عنوان میں یہ الفاظ بڑھائے گئے ہیں : وَمَا لِلْوَصِيِّ أَنْ يَعْمَلَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْهُ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ - لفظ حَسِيبًا سے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے باب اور آیت کا موضوع واضح کیا گیا ہے کہ عابد کو اپنے معبود کی صفات سے متصف ہونا چاہیے۔ بَاب : وَمَا لِلْوَصِيِّ أَنْ يَعْمَلَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْهُ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ اس حکم کا ذکر کہ یتیم کے مال میں وصی ( تجارت اور ) محنت کر سکتا ہے اور اپنی محنت کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے ٢٧٦٤: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْأَشْعَثِ ۲۷۶۴ ہارون بن اشعث نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ہمیں ابوسعید نے جو بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ بتایا۔ انہوں نے کہا:) ہمیں صحر بن جویریہ نے نافع سے عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ روایت کرتے ہوئے کہا کہ نافع نے حضرت ابن عمر عُمَرَ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَّهُ عَلَى عَهْدِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عمر نے رسول اللہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کے زمانہ میں اپنی ایک جائیداد صدقہ میں دے دی