صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 113 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 113

صحيح البخارى جلده ١١٣ ۵۵ - كتاب الوصايا فِيْهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا الْأَوْفَى مِنَ دیتے ہیں اس لئے ان کا حق نہیں کہ وہ یتیم لڑکی جو انہیں الصَّدَاقِ وَيُعْطُوْهَا حَقَّهَا۔پسندیدہ خاطر ہو، اس سے نکاح کریں سوائے اس کے کہ انصافاً جو زیادہ سے زیادہ مہر دے سکتے ہوں اس کو دے دیں اور جو اس کے حقوق ہیں وہ بھی اسے دیں۔اطرافه ،٢٤٩٤ ، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤، ٤٦۰۰، ٥٠٦٤، ۵۰۹۲، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، ۵۱۳۱ ٥١٤٠، ٦٩٦٥ تشریح: وَاتَّوُا اليَتمى وَاتُوُا اليَمى أَمْوَالَهُمُ : مذکورہ بالا دو آیتوں کی تشریح میں چار باب باندھے گئے ہیں۔ان آیات کی تشریح بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کتاب الشركة باب ۷ روایت نمبر ۲۴۹۴ میں بھی گزر چکی ہے۔روایت میں مذکورہ دوسری آیت یہ ہے: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ" وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتمَى النِسَاءِ الَّتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ (النساء: ۱۲۸) لوگ تجھ سے ایک سے زیادہ عورتوں کے متعلق احکام دریافت کرتے ہیں۔تو ان سے کہ کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں دوسری جگہ تمہیں پڑھ کر سنایا گیا ہے، وہ ان یتیم عورتوں کے متعلق ہے جنہیں تم ان کے مقررہ حق ادا نہیں کرتے۔مگر ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو۔باب میں دونوں آیتیں جمع کر کے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کا موضوع ایک ہی ہے۔اس ضمن میں مزید کتاب التفسير، سورۃ النساء دیکھئے۔بَاب ۲۲ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَابْتَلُوا الْيَتْلَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: میموں کی آزمائش کرتے رہو اس وقت تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا پھر اگر تم ان میں سمجھ کے آثار دیکھو تو ان کے مال انہیں إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا واپس دے دو اور ان کے جوان ہو جانے کے خوف سے وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا ان کے مالوں کو ناجائز طور پر اور جلدی جلدی نہ کھا جاؤ اور جو کوئی مالدار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اس مال کے فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ استعمال سے کلی طور پر اجتناب کرے۔لیکن جو نادار ہو بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُهُ إِلَيْهِمُ و مناسب طور پر اس مال میں سے کھائے۔پھر جب وہ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللهِ تم انہیں ان کے مال واپس دو تو بتائی کے روبرو گواہ دو حَسِيبًا لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ مقرر کر لو اور اللہ حساب لینے کے لحاظ سے اکیلا کافی ہے الْوَالِدَنِ وَالْاَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ اور مَردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی اس مال میں سے جو ط