صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 112 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 112

صحيح البخارى جلده ۱۱۲ ۵۵ - كتاب الوصايا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَى فَانْكِحُوا مَا فِي الْيَتمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ قَالَتْ هِيَ کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عائشہ نے کہا: اس سے مراد ایسی یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو الْيَتِيمَةُ فِي حَجْرٍ وَلِيْهَا فَيَرْغَبُ فِي اور وہ اس کی خوبصورتی اور مال کی وجہ سے خواہش رکھتا جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيْدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ہو کہ اس سے شادی کر لے، اس مہر سے کم دے کر جو عام بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا فَنُهُوا عَنْ طور پر اس جیسی عورتوں کو دینے کا رواج ہے۔اس لئے نَكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي انہیں ایسی یتیم لڑکیوں کو اپنے نکاح میں لانے سے روک دیا گیا؛ سوائے اس کے کہ وہ پورا مہر دے کر ان کے ساتھ إِكْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوْا بِنِكَاحِ مَنْ انصاف سے پیش آئیں اور انہیں ان یتیم لڑکیوں کے سوا سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ اَور عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔حضرت اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عائشہ کہتی تھیں: پھر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کے بعد اس بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل کی وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ یعنی یہ لوگ وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ الله تجھ سے (ایک سے زیادہ ) عورتوں (کے ساتھ نکاح) کی يُفْتِيُكُمْ فِيهِنَّ (النساء : ۱۲۸) قَالَتْ نسبت فتوی دریافت کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ اللہ تم کو فَبَيَّنَ اللَّهُ فِي هَذِهِ أَنَّ الْيَتِيْمَةَ إِذَا ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔حضرت عائشہ کہتی كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ کھول کر بیان کر دیا نِكَاحِهَا وَلَمْ يُلْحِقُوْهَا بِسُنَّتِهَا ہے کہ یتیم لڑکی اگر خوبصورت اور مالدار ہو تو وہ اس کے بِإِكْمَالِ الصَّدَاقِ فَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوْبَةٌ نکاح کی خواہش کرتے ہیں اور جو رواج اس کو دینے کا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوْهَا ہے اس کے مطابق اس کو پورا مہ نہیں دیتے اور اگر مال کی کمی اور خوبصورتی کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کو اس وَالْتَمَسُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ قَالَ کی خواہش نہ ہو تو اس کو چھوڑتے اور دوسری عورت کی فَكَمَا يَتْرُكُوْنَهَا حِيْنَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا تلاش کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: چونکہ فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوْهَا إِذَا رَغِبُوا لوگ ایسی یتیم لڑکی کو جبکہ وہ ان کو نا پسند ہوتی ہے چھوڑ