صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 110 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 110

صحيح البخارى جلده 11۔۵۵ - كتاب الوصايا تشریح: مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ تُوُقِيَ فُجَأَةً أَنْ يَتَصَدَّقُوا عَنْهُ: باب ۱۵ (روایت نمبر ۲۷۵۶) میں حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ کے فوت ہونے کا واقعہ ابھی گذر چکا ہے۔اس باب میں اسی سے مسئلہ معنونہ اخذ کیا گیا ہے۔اُفتلت کے معنی ہیں اچانک وفات پاگئی ہے۔روایت نمبر ۲۷۶۰ میں فتویٰ پوچھنے والے کا نام نہیں لیکن روایت نمبر ۲۷۶۱،۲۷۵۶ میں صراحت ہے اور دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔دوسری روایت (نمبر ۲۷۶۱) میں نذر کا بھی ذکر ہے۔دونوں روایتیں مل کر مضمون مکمل کرتی ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۷۶) اس تعلق میں کتاب الجنائز باب ۹۵ روایت نمبر ۱۳۸۸ کی تشریح بھی دیکھئے۔ایک روایت میں حضرت سعد کے یہ الفاظ منقول ہیں: أَفَيُجْزِى عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحق عَنْ اُمَكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔موطا کی روایت میں ہے کہ بوقت وفات ان سے کہا گیا کہ اپنی نذر پوری کریں تو انہوں نے کہا: الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ - مال تو سعد کا ہے۔میں کیسے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کرسکتی ہوں۔اس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت سعد نے علم ہونے پر اپنی والدہ کی نذر پوری کی یہ مگر الفاظ لَو تَكَلَّمَت سے ظاہر ہے کہ انہیں اچانک موت کی وجہ سے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔عنوان باب میں یہی بات نمایاں کر کے اس روایت کی خامی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جو موطا میں ہے۔اس تعلق میں میت کے روزے کی نذر پوری کرنے کے ضمن میں کتاب الصوم باب ۴۲ دیکھئے۔بَاب ۲۰ : الْإِشْهَادُ فِي الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ وقف کرنے اور صدقہ کرنے کے وقت گواہ ٹھہرانا ٢٧٦٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۲۷۶۲ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ ابْنَ بِشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔انہیں ابن جریج نے جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ خبر دی، کہا: یعلی بن مسلم نے مجھے بتایا کہ انہوں نے سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ حضرت ابن عباس کے غلام عکرمہ سے سنا۔کہتے تھے: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ہمیں حضرت ابن عباس نے خبر دی کہ حضرت سعد بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ عبادہ رضی اللہ عنہ جو بنی ساعدہ میں سے تھے؛ ان کی أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله والدہ فوت ہو گئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے تو وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي نبی ﷺ کے پاس آئے۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ا سنن النسائی، کتاب الوصايا، باب فضل الصدقة عن الميت مؤطا مالک، کتاب الأقضية، باب صدقة الحي عن الميت)