صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 110
صحيح البخاری جلده تشریح: ۱۱۰ ۵۵- كتاب الوصايا مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ تُوُفِّيَ فَجَأَةً أَنْ يَتَصَدَّقُوا عَنْهُ : باب ۱۵ ( روایت نمبر ۲۷۵۶) میں حضرت سعد بن عبادہؓ کی والدہ کے فوت ہونے کا واقعہ ابھی گذر چکا ہے۔ اس باب میں اسی سے مسئلہ معنونہ اخذ کیا گیا ہے ۔ اقلیت کے معنی ہیں اچانک وفات پاگئی ہے۔ روایت نمبر ۲۷۶۰ میں فتوئی پوچھنے والے کا نام نہیں ۔ لیکن روایت نمبر ۲۷۵۶، ۲۷۶۱ میں صراحت ہے اور دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔ دوسری روایت (نمبر ۲۷۶۱) میں نذر کا بھی ذکر ہے۔ دونوں روایتیں مل کر مضمون مکمل کرتی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۷۶) اس تعلق میں۔ میں کتاب الجنائز باب ۹۵ روایت دایت نمبر نمبر ۱۳۸۸ ۱۳۸۸ کی تشریح بھی دیکھئے۔ ایک روایت میں حضرت سعد کے یہ الفاظ منقول ہیں: أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعْتِقُ عَنْ أُمِّكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔ مؤطا کی روایت میں ہے کہ بوقت وفات ان سے کہا گیا کہ اپنی نذر پوری کریں تو انہوں نے کہا : الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ - مال تو سعد کا ہے۔ میں کیسے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کر سکتی ہوں، ہوں ۔ اس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت سعد نے علم ہونے پر اپنی والدہ کی نذر پوری کی ہے مگر الفاظ لَوْ تَكَلَّمَتُ سے ظاہر ہے کہ انہیں اچانک موت کی وجہ سے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ عنوان باب میں یہی بات نمایاں کر کے اس روایت کی خامی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جو مؤطا میں ہے۔ اس تعلق میں میت کے روزے ے کی نذر پوری کرنے کے ضمن میں کتاب الصوم باب ۴۲ دیکھئے۔ باب ۲۰ : الْإِشْهَادُ فِي الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ وقف کرنے اور صدقہ کرنے کے وقت گواہ ٹھہرانا ٢٧٦٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۲۷۶۲: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہیں ابن جریج نے جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ خبر دی، کہا: یعلی بن مسلم نے مجھے بتایا کہ انہوں نے سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ حضرت ابن عباس کے غلام عکر ابن عباس کے غلام عکرمہ سے سنا۔ کہتے تھے : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ہمیں حضرت ابن عباس نے خبر دی کہ حضرت سعد بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ عبادہ رضی اللہ عنہ جو بنی ساعدہ میں سے تھے؛ ان کی أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ والدہ فوت ہو گئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے تو وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: یا رسول الله ! (سنن النسائی، کتاب الوصايا، باب فضل الصدقة عن الميت (مؤطا مالک، کتاب الأقضية، باب صدقة الحي عن الميت)