صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 109 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 109

صحيح البخارى جلده 1+9 ۵۵ - كتاب الوصايا آیت میراث کے معا بعد ہے اور حضرت ابن عباس نے لطیف جواب دیا ہے کہ رشتہ دار دو قسم کے ہیں۔ایک وارث اور دوسرے غیر وارث۔جو لوگ غیر وارث رشتہ داروں اور مسکینوں سے نیک سلوک کرنے میں غافل ہیں۔انہیں اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے۔اس لئے یہ نہ ناسخ ہے نہ منسوخ بلکہ محکم اور قائم ہے۔بَاب :١٩: مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ تُوُفِّيَ فُجَاءَةً أَنْ يَتَصَدَّقُوْا عَنْهُ وَقَضَاءُ النُّذُوْرِ عَنِ الْمَيِّتِ ناگہاں فوت ہونے والے کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی طرف سے نذریں پوری کرنا ٢٧٦٠: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۲۷۶۰: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ہشام سے، عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمّي عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ سے کہا کہ میری ماں اچانک فوت ہوگئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ تَصَدَّقَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ صدقہ دیتی۔کیا میں اس کی طرف سے صدقہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے صدقہ دے دو۔تَصَدَّقْ عَنْهَا۔طرفه ۱۳۸۸ ٢٧٦١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۲۷۶۱ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ شہاب سے ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے، ، ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سَعْدَ عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَفْتَی روایت کی کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۔کہنے لگے إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَقَالَ کہ میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر ہے۔آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے تم ادا کر دو۔اقْضِهِ عَنْهَا۔اطرافه: ٦٦٩٨ ٦٩٥٩۔