صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 107
صحيح البخارى جلده 1۔6 ۵۵ - كتاب الوصايا يَدْخُلُهَا وَيَسْتَظِلُّ بِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ پیاکرتے۔(حضرت ابوطلحہ نے کہا:) وہ باغ اللہ عزوجل مَائِهَا فَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد ہے۔میں امید کرتا رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجُو ہوں کہ وہ ایک نیکی ہوگی اور میرے لئے ذخیرہ آخرت بِرَّهُ وَذُخْرَهُ فَضَعْهَا أَيْ رَسُوْلَ اللهِ ہوگا۔اس لئے اے اللہ کے رسول! اسے جہاں اللہ تعالیٰ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ آپ کو سمجھائے خرچ کیجئے۔تو رسول اللہ ﷺ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ يَا أَبَا طَلْحَةَ فرمایا: شاباش ابوطلحہ! یہ مال فائدہ مند ہے۔ہم نے ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَرَدَدْنَاهُ اس کو تم سے قبول کیا اور تمہارے پاس ہی اس کو واپس عَلَيْكَ فَاجْعَلْهُ فِي الْأَقْرَبِيْنَ فَتَصَدَّقَ کر دیا۔پس اپنے قریبیوں کو دے دو۔چنانچہ حضرت ابوطلحہ نے اپنے رشتہ داروں کو وہ باغ بطور صدقہ کے بِهِ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ قَالَ دے دیا۔حضرت انس کہتے تھے کہ ان میں سے ابی وَكَانَ مِنْهُمْ أُبَيٌّ وَحَسَّانُ قَالَ وَبَاعَ اور حسان بن ثابت ) بھی تھے اور یہ بھی کہتے تھے کہ حَسَّانُ حِصَّتَهُ مِنْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ فَقِبْلَ حسان نے اپنا حصہ معاویہ کے پاس بیچ دیا تو ان سے لَهُ تَبِيْعُ صَدَقَةَ أَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ أَلَا کہا گیا: کیا تم ابوطلحہ کا صدقہ بیچتے ہو۔انہوں نے أَبِيْعُ صَاعًا مِنْ تَمْرِ بِصَاعٍ مِنْ جواب دیا: ( یہ ایسا نفع مند سودا ہے ) کیا میں کھجور کے دَرَاهِمَ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الْحَدِيْقَةُ ایک صاع کو درہموں کے ایک صاع کے بدلے نہ فِي مَوْضِعِ قَصْرٍ بَنِي حُدَيْلَةَ الَّذِي ہوں۔حضرت انسؓ کہتے تھے اور وہ باغ بنی عدیلہ بَنَاهُ مُعَاوِيَةُ۔کے محل کے پاس تھا، جسے معاویہ نے بنایا تھا۔اطرافه ١٤٦١، ٢٣١٨، 175٢، 1769، 4554، 4555، 5611۔تشریح : مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيْلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيلُ إِلَيْهِ : باب میں بھی اپن مذکور الصدر استدلال سے متعلق اعتراض دُہرا کر اس کا جواب علیحدہ عنوان سے واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابوطلحہ نے آنحضرت ﷺ کو باغ پیش کیا تھا؟ جسے آپ نے قبول کیا اور پھر انہی کو اس کا متولی بنا دیا۔اس تعلق میں فقہاء کے درمیان کوئی قبل ذکر اختلاف نہیں۔البتہ بعض نے صدقہ اور وقف سے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ان کی بیع جائز نہیں۔علامہ عینی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ بیرحاء کا باغ بطور صدقہ تھا اور صدقہ میں تملیک کی صورت ہے۔اس لئے جس شخص کو دیا گیا تھا۔وہ اس کے مالکا نہ تصرف میں آزاد ہے۔جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت نے اپنا حصہ ایک لاکھ درھم پر