صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 107 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 107

صحیح البخاری جلده ۱۰۷ ۵۵- كتاب الوصايا يَدْخُلُهَا وَيَسْتَظِلُّ بِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ پیا کرتے۔ (حضرت ابوطلحہ نے کہا:) وہ باغ اللہ عز وجل عليه پرد ہے۔ میں امید کرتا صلى الله مَائِهَا فَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد ہے۔ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجُو ہوں کہ وہ ایک نیکی ہوگی اور میرے لئے ذخیرہ آخرت صلى الله بِرَّهُ وَذُخْرَهُ فَضَعْهَا أَيْ رَسُوْلَ اللهِ ہوگا۔ اس لئے اے اللہ کے رسول! اسے جہاں اللہ تعالیٰ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ آپ کو سمجھا۔ سمجھائے خرچ کیجئے۔ تور تو رسول اللہ علی نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ يَا أَبَا طَلْحَةَ فرمایا: شاباش ابوطلحہ! یہ مال فائدہ مند ہے۔ ہم نے ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَرَدَدْنَاهُ اِس کو تم سے قبول کیا اور تمہارے پاس ہی اس کو واپس عَلَيْكَ فَاجْعَلْهُ فِي الْأَقْرَبِينَ فَتَصَدَّقَ کر دیا۔ پس اپنے قریبیوں کو دے دو۔ چنانچہ حضرت بِهِ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ قَالَ ابوطلحہ نے اپنے رشتہ داروں کو وہ باغ بطور صدقہ کے دے دیا۔ حضرت انس کہتے تھے کہ ان میں سے ابی وَكَانَ مِنْهُمْ أُبَيٌّ وَحَسَّانُ قَالَ وَبَاع اور حسان بن ثابت بھی تھے اور یہ بھی کہتے تھے کہ حَسَّانُ حِصَّتَهُ مِنْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ فَقِيْلَ حسان نے اپنا حصہ معاویہ کے پاس بیچ دیا تو ان سے لَهُ تَبِيعُ صَدَقَةَ أَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ أَلَا کہا گیا: کیا تم ابوطلحہ کا صدقہ بیچتے ہو۔ انہوں نے أَبِيْعُ صَاعًا مِنْ تَمْرِ بِصَاعٍ مِنْ جواب دیا : ( یہ ایسا نفع مند سودا ہے ) کیا میں کھجور کے دَرَاهِمَ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الْحَدِيقَةُ ایک صاع کو درہموں کے ایک صاع کے بدلے نہ فِي مَوْضِعِ قَصْرِ بَنِي حُدَيْلَةَ الَّذِي بچوں ۔ حضرت انس کہتے تھے: اور وہ باغ بنی حدیلہ بچوں۔ بَنَاهُ مُعَاوِيَةُ۔ کے محل کے پاس تھا، جسے معاویہ نے بنایا تھا۔ اطرافه ١٤٦١ ، ٢٣١٨ ، ٢٧٥٢ ، ٢٧٦٩، ٤٥٥٤، 4555، 5611۔ اپنے تشريح : مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيْلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيلُ إِلَيْهِ : بابا میں بھی ان مذکور الصدر استدلال سے متعلق اعتراض دُہرا کر اس کا جواب علیحدہ عنوان سے واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابوطلحہ نے صلى انحضرت ﷺ کو باغ پیش کیا تھا؟ جسے آپ نے قبول کیا اور پھر انہی کو اس کا کا متولی بنا دیا۔ اس تعلق میں فقہاء کے درمیان کوئی قبل ذکر اختلاف نہیں ۔ البتہ بعض نے صدقہ اور وقف سے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ان کی بیع جائز نہیں۔ علامہ عینی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ بیرحاء کا باغ بطور صدقہ تھا اور صدقہ میں تملیک کی صورت ہے ۔ اس لئے جس شخص کو دیا گیا تھا۔ وہ اس کے مالکانہ تصرف میں آزاد ہے۔ جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت نے اپنا حصہ ایک لاکھ درھم پر