صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 106 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 106

صحيح البخاری جلده ۱۰۶ ۵۵- كتاب الوصايا سے وقف منقولہ کے قائل نہیں۔ اس لئے اس کی صحت یا عدم صحت کا ان کے نزدیک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر امامین کے نزد یک وقف منقوله مثل آلات کا شتکاری، جو تنے کے جانور، جائیداد اور غلام جو اس میں کارکن ہیں بطور تبعاً وقف کئے جا سکتے ہیں۔ تبعاً سے ان کی مراد یہ ہے کہ زمین وقف کی ہے تو اس کے ساتھ مذکورہ بالا اشیاء منقولہ بھی وقف کی جاسکتی ہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں بطور لوازم کاشت ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۷۳) (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفه ۵۲ ) مسئلہ معنونہ کے تعلق میں یہ سوال ہے کہ کیا کوئی شخص ساری جائیداد صدقہ یا وقف کر سکتا ہے؟ فقہاء کی اکثریت جواز کے حق میں ہے؛ بشرطیکہ وقف کرنے والا صنعت و حرفت یا کسی ایسے ہنر سے واقف ہو جس سے صورت معاش کا انتظام ہو سکے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴۰ صفحه ۵۲) بَاب ۱۷ : مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيْلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيْلُ إِلَيْهِ جو صدقہ کر کے اپنے مختار کے سپرد کر دے اور پھر وہ مختار اس کو واپس کر دے ( تو یہ جائز ہے ) ٢٧٥٨ : وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي ۲۷۵۸ اور اسماعیل نے کہا: عبد العزیز بن عبدالله عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بن ابی سلمہ نے مجھے بتایا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ طلحہ سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا: ) میں یہی جانتا لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہوں کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى حضرت انس نے کہا: جب یہ آیت اتری : تم کامل نیکی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) کو اس وقت تک نہیں پا سکو گے جب تک کہ تم اپنی پیاری جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو تو ابوطلحہ رول اللہ ﷺ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا صلى الله کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول الله ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے : تم نیکی کو رَسُولَ اللَّهِ يَقُوْلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی ہرگز نہیں پاسکو گے، جب تک تم ان چیزوں کو نہ خرچ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا کرو جن سے تم محبت رکھتے ہوں۔ اور میری جائیداد میں مِمَّا تُحِبُّونَ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي سے پیارا مال مجھے بیرحاء ہے۔ حضرت انس سے سب سے پیارا صلى الله إِلَيَّ بَيْرُ حَاءُ قَالَ وَكَانَتْ حَدِيقَةً كَانَ کہتے تھے: یہ ایک باغ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جایا کرتے تھے اور وہاں سایہ میں بیٹھا کرتے اور پانی