صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 106
صحيح البخارى جلده 104 ۵۵ - كتاب الوصايا سے وقف منقولہ کے قائل نہیں۔اس لئے اس کی صحت یا عدم صحت کا ان کے نزدیک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مگر امامین کے نزد یک وقف منقوله مثل آلات کا شتکاری، جوتنے کے جانور، جائیداد اور غلام جو اس میں کارکن ہیں بطور متبعاً وقف کئے جاسکتے ہیں۔تبعا سے ان کی مراد یہ ہے کہ زمین وقف کی ہے تو اس کے ساتھ مذکورہ بالا اشیاء منقولہ بھی وقف کی جاسکتی ہیں۔کیونکہ یہ چیزیں بطور لوازم کاشت ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۷۳) (عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحه۵۲) مسئلہ معنونہ کے تعلق میں یہ سوال ہے کہ کیا کوئی شخص ساری جائیداد صدقہ یا وقف کر سکتا ہے؟ فقہاء کی اکثریت جواز کے حق میں ہے، بشرطیکہ وقف کرنے والا صنعت و حرفت یا کسی ایسے ہنر سے واقف ہو جس سے صورت معاش کا انتظام ہو سکے۔(عمدۃ القاری جز ۴ صفحه ۵۲) بَاب ۱۷ : مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيْلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيْلُ إِلَيْهِ جو صدقہ کر کے اپنے مختار کے سپرد کر دے اور پھر وہ مختار اس کو واپس کر دے ( تو یہ جائز ہے ) ٢٧٥٨ : وَقَالَ إِسْمَاعِيْلُ أَخْبَرَنِي ۲۷۵۸: اور اسماعیل نے کہا: عبد العزیز بن عبداللہ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بن ابی سلمہ نے مجھے بتایا کہ اسحاق بن عبد اللہ بن ابی عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ طلحہ سے مروی ہے۔(انہوں نے کہا: ) میں یہی جانتا لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہوں کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى حضرت انس نے کہا: جب یہ آیت اتری تم کامل نیکی کو اس وقت تک نہیں پاسکو گے جب تک کہ تم اپنی پیاری تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔تو ابوطلحہ رسول اللہ ہے کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَقُوْلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی کو ہرگز نہیں پاسکو گے، جب تک تم ان چیزوں کو نہ خرچ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا كرو جن سے تم محبت رکھتے ہو۔اور میری جائیداد میں مِمَّا تُحِبُّونَ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي سے سب سے پیارا مال مجھے بیرحاء ہے۔حضرت انسؓ إِلَيَّ بَيْرُ حَاءُ قَالَ وَكَانَتْ حَدِيْقَةً كَانَ کہتے تھے۔یہ ایک باغ تھا جس میں رسول اللہ ہے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جایا کرتے تھے اور وہاں سایہ میں بیٹھا کرتے اور پانی