صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 105 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 105

صحيح البخارى جلده 1+0 ۵۵ - کتاب الوصايا بَاب ١٦: إِذَا تَصَدَّقَ أَوْ وَقَفَ بَعْضَ مَالِهِ أَوْ بَعْضَ رَقِيْقِهِ أَوْ دَوَابِّهِ فَهُوَ جَائِزٌ اگر کوئی { اپنے مال میں سے کچھ حصہ یالا ہم اپنے غلام یا جانوروں میں سے کچھ حصہ صدقہ کر دے یا وقف کر دے تو یہ جائز ہے ٢٧٥٧: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۷۵۷ بسیجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ { أَنَّ عَبْدَ اللهِ بن عبد اللہ بن کعب نے مجھے بتایا کہ ( اُن کے باپ) ابْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ عبد الله بن کعب نے کہا کہ میں نے حضرت کعب کے بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ} قُلْتُ مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے۔میں نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ يارسول اللہ! مجھے اپنی نافرمانی پر جو ندامت ہے، اُس مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُوْلِهِ کی وجہ سے میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہوتا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمْسِكْ ہوں جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے صدقہ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ہوگا۔آپ نے فرمایا: اپنے مال میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھ لو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا: قُلْتُ أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ۔پھر میں اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔اطرافه: ٢٩٤٧ ، ۲۹٤٨، ۲۹٤۹، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸ ،۳۰۰، ۳۸۸۹، ٣٩٥١، ٤٤١٨، ٤٦٧٣ ٤٦٧٦ ٤٦٧٧، ٤٦٧٨٠، ٦٢٥٥ ، ٦٦٩٠، ٧٢٢٥۔تشریح: إِذَا تَصَدَّقَ أَوْ وَقَفَ بَعْضَ مَالِهِ أَوْ بَعْضَ رَقِيقِهِ أَوْ دَوَاتِهِ فَهُوَ جَائِزٌ : غیر منقولہ جائیداد کے صدقہ اور وقف کی نسبت تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ وہ جائز ہیں۔لیکن منقولہ جائیداد جیسے غلام اور سامان کے وقف کے متعلق حضرت امام ابوحنیفہ کو اختلاف ہے۔علامہ عینی نے وضاحت کی ہے کہ وہ سرے ل الفاظ بَعْضَ ماليه أو فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔الفاظ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قُلْتُ، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔