صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 105
صحیح البخاری جلده ۱۰۵ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ١٦: إِذَا تَصَدَّقَ أَوْ وَقَفَ { بَعْضَ مَالِهِ أَوْ } بَعْضَ رَقِيقِهِ أَوْ دَوَابِهِ فَهُوَ جَائِزٌ اگر کوئی { اپنے مال میں سے کچھ حصہ یا لے } اپنے غلام یا جانوروں میں سے کچھ حصہ صدقہ کر دے یا وقف کر دے تو یہ جائز ہے ٢٧٥٧ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۷۵۷: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ { أَنَّ عَبْدَ اللهِ بن عبد الله بن کعب نے مجھے بتایا کہ ( ان کے باپ ) ابْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ عبد اللہ بن کعب نے کہا کہ میں نے حضرت کعب کے بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ } قُلْتُ مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ میں نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ يا رسول اللہ ! مجھے اپنی نافرمانی پر جو ندامت ہے، اُس مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُوْلِهِ کی وجہ سے میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے صدقہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ہوگا۔ آپ نے فرمایا: اپنے مال میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھ لو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: قُلْتُ أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ۔ پھر میں اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ اطرافه: ٢٩٤٧ ، ۲۹٤٨، ۲۹۴۹، ۲۹۵۰، ٣٠٨٨، ٣٥٥٦، 3889، 3951، 4418، ٤٦٧٣ ، ٤٦٧٦ ، ٤٦٧٧ ، ٤٦٧٨، ٦٢٥٥ ، ٦٦٩٠، ٧٢٢٥ تشريح : إِذَا تَصَدَّقَ أَوْ وَقَفَ بَعْضَ مَالِهِ أَوْ بَعْضَ رَقِيقِهِ أَوْ دَوَانِهِ فَهُوَ جَائِزٌ: غیر منقولہ جائیداد کے صدقہ اور وقف کی نسبت تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ وہ جائز ہیں۔ لیکن منقولہ جائیداد جیسے غلام اور سامان کے وقف کے متعلق حضرت امام ابو حنیفہ کو اختلاف ہے۔ علامہ عینی نے وضاحت کی ہے کہ وہ سرے ل الفاظ ”بَعْضَ مَالِهِ أَو " فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ الفاظ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قُلْتُ، فتح الباری مطبوعه بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔