صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 104
صحيح البخاری جلده ۱۰۴۴ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ١٥ : إِذَا قَالَ أَرْضِي أَوْ بُسْتَانِي صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَنْ أُمِّي فَهُوَ جَائِزٌ وَإِنْ لَّمْ يُبَيِّنْ لِمَنْ ذَلِكَ اگر کوئی یوں کہے کہ میری زمین یا میرا باغ میری ماں کی طرف سے اللہ کی خاطر صدقہ ہے تو یہ جائز ہے گو یہ کھول کر نہ بیان کرے کہ یہ کس کے لئے ہے؟ ٢٧٥٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۲۷۵۶ محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بن یزید نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةً انہوں نے کہا: یعلی ( بن مسلم ) نے مجھے بتایا کہ انہوں يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے عکرمہ سے سنا کہتے تھے: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت سعد بن عبادہ یہ کی أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ والدہ فوت ہو گئیں اور وہ اُس وقت اُن کے پاس موجود تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا فَقَالَ نہ تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میری والدہ فوت يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا ہوگئی ہیں اور اس وقت میں اُن کے پاس نہ تھا۔ کیا اُن غَائِبٌ عَنْهَا أَيَنْفَعُهَا شَيْءٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ کو کوئی چیز نفع دے گی؛ اگر میں اُن کی طرف سے بِهِ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ (سعد نے) کہا: أَنَّ حَائِطِيَ الْمِحْرَافَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا ۔ پھر میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میرا باغ مخراف ان اطرافه: ۲۷۶۲، ۲۷۷۰ کی طرف سے صدقہ ہے۔ تشريح : إِذَا قَالَ أَرْضِي أَوْ بُسْتَانِيَ صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَنْ أُمِّي فَهُوَ جَائِز: یہ باب کی سابقہ مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے۔ حضرت سعد : ۔ حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ کا نام عمرہ بنت مسعود ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ھھ میں فوت ہوئیں ۔ ان دنوں آپ غزوہ دومۃ الجندل میں مشغول تھے اور حضرت سعد بھی آپ کے ساتھ شریک غزوہ تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوٹے تو اُن کی قبر پر گئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ حضرت ابن عباس اُن دنوں مکہ مکرمہ میں تھے اور کمسن تھے۔ اس لئے اُن کی روایت مرسل ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۷۲ ) (عمدۃ القاری جزء ۴ ۱ صفحہ (۵) کسی سے انہوں نے حضرت سعد کا واقعہ سنا اور اُسے نقل کیا ہے۔ اس تعلق میں باب ۱۹ روایت نمبر ۲۷۶۱ مع شرح فتح الباری بھی دیکھئے۔