صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 103 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 103

صحيح البخاری جلده ۱۰۳ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ١٤ : إِذَا قَالَ دَارِي صَدَقَةٌ لِلَّهِ وَلَمْ يُبَيِّنْ لِلْفُقَرَاءِ أَوْ غَيْرِهِمْ فَهُوَ جَائِزٌ وَيُعْطِيُّهَا لِلْأَقْرَبِينَ أَوْ حَيْثُ أَرَادَ اگر کوئی یوں کہے میرا گھر اللہ کے لئے صدقہ ہے اور یہ کھول کر نہ بتائے کہ محتاجوں کے لئے ہے یا اُن کے سوا اوروں کے لئے تو یہ جائز ہے اور اس (صدقہ ) کو قریبیوں میں خرچ کرے یا جہاں وہ چاہے صلى الله قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ جب حضرت ابو طلحہ نے نبی ہے سے عرض کیا کہ لِأَبِي طَلْحَةَ حِيْنَ قَالَ أَحَبُّ أَمْوَالِي میری جائیدادوں میں سے سب سے پیارا مال مجھے إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ فَأَجَازَ پیر جاء ہے اور وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے تو نبی نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ۔ نے اُسے جائز رکھا۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ یہ جائز وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا يَجُوْزُ حَتَّى يُبَيِّنَ نہیں جب تک کہ یہ کھول کر بیان نہ کرے کہ کس لِمَنْ وَالْأَوَّلُ أَصَحُ۔ کے لئے ہے اور پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ تشريح : إِذَا قَالَ دَارِي صَدَقَةٌ لِلَّهِ وَلَمْ يُبَيِّنُ لِلْفُقَرَاءِ أَوْ غَيْرِهِمْ فَهُوَ جَائِنٌ : اس ------- باب کے عنوان میں معترضین کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ حضرت ابوطلحہ کے وقف سے جو استدلال کیا گیا ہے، وہ واضح نہیں۔ اس اعتراض کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو عمدۃ القاری جزء۱۴ صفحہ۵۰-۵۱۔ إِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ : حضرت ابوطلحہ نے بیرحاء کا باغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا تھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان کے رشتہ داروں کے لئے وقف کیا اور آ۔ وقف کیا اور آپ کی اجازت سے حضرت ابوطلحہ تقسیم کے متولی ہوئے۔ محتاج رشتہ داروں کا حصہ معین کیا۔ اس سے امام بخاری کا استدلال واضح ہو جاتا۔ اسے - ہو جاتا ہے اور اس استدا استدلال سے متعلق جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب ابن منیر اور علامہ ابن حجر نے یہ دیا ہے کہ مشارا یہ دیا ہے کہ مشار الیہ جائیداد کے اصل واقف خود آنحضرت تھے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ (۴۷) اس تعلق میں تشریح باب ۱۷ نیز کتاب الزکاۃ باب ۴۴ بھی دیکھئے۔ صلى الله عليه وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا يَجُوزُ ۔۔۔ اس سے امام شافعی کے ایک قول کی طرف اشارہ ہے کہ وقف کا مصرف معین ہونا چاہیے لیکن اس کے خلاف بھی اُن کا قول مروی ہے کہ بغیر تعین اشخاص وقف جائز ہے کیونکہ تعین تو بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہی مذہب امام مالک اور امامین رحمہم اللہ کا ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحہ ۵۱ ) عمدۃ القاری میں اس جگہ وَيَضَعُهَا فِي الْأَقْرَبِينَ “ کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جز ۱۴۶ صفحہ ۵۰ )