صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 102
صحيح البخارى جلده ۱۰۲ ۵۵ - كتاب الوصايا بَابِ ١٣: إِذَا وَقَفَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى غَيْرِهِ فَهُوَ جَائِزٌ اگر کسی نے کوئی چیز وقف کی ہو اور کسی دوسرے کے سپرد نہ کرے تو ایسا وقف جائز ہے لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْقَفَ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وقف کیا اور کہا: جو وقف فَقَالَ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَّلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ كا متولی ہو اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ بھی کھائے اور یہ وَلَمْ يَخُصَّ إِنْ وَلِيَهُ عُمَرُ أَوْ غَيْرُهُ تخصیص نہیں کی کہ حضرت عمر خود متولی ہوں یا حضرت وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عمر کے سوا کوئی اور۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ سے فرمایا: میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس (باغ) لأَبِي طَلْحَةَ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبيْنَ فَقَالَ أَفْعَلُ فَقَسَمَهَا فِي میں ایسا ہی کئے دیتا ہوں۔پھر انہوں نے اپنے أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ۔کو اپنے قریبیوں میں ہی تقسیم کر دو تو انہوں نے کہا: قریبیوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں اُسے تقسیم کر دیا۔تشریح : إِذَا وَقَفَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُدْفَعَهُ إِلَى غَيْرِهِ فَهُوَ جَائِرٌ : عنوان اب کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وقف شدہ جائیداد موقوف لۂ کو سپرد نہ کی جائے اور واقف خود اُس کا متولی ہو تو کیا ایسا وقف جائز ہوگا ؟ جمہور کے نزدیک تو یہ وقف درست ہے لیکن امام مالک کے نزدیک وقف اسی صورت میں صحیح ہوگا جب قبضہ دوسرے کو دے دیا جائے۔امام طحاوی نے قبضہ کے بغیر وقف کی صحت سے متعلق یہ دلیل دی ہے کہ وقف اور عتق دونوں اس لحاظ سے برابر ہیں کہ جائیداد اور غلام بندوں کے قبضہ سے نکل کر خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔پس جس طرح مجرد اعلان سے آزادی صحیح قرار پا جاتی ہے، اسی طرح وقف بھی صرف اعلان سے درست قرار پاتا ہے۔اس میں قبضہ کی ضرورت نہیں۔اس کے برخلاف ہبہ میں تملیک ( قبضہ دینا ) ضروری ہے۔یہ ظاہر ہے کہ وقف کی نگرانی کے لئے کسی ایسے متولی کا ہونا ضروری ہے جو اہل ہو۔ہر شخص اس کا اہل نہیں ہوتا۔جمہور نے حضرت علی، حضرت عمرؓ اور حضرت فاطمہ کے عمل سے جواز کا استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جائیدادیں وقف کیں اور خود ہی اُن کے متولی رہے ؛ کسی دوسرے کو قبضہ نہیں دیا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۷) (عمدۃ القاری جزء۴ صفحه۵۰) سے عنوان باب میں حضرت ابوطلحہ کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ہیں : أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ۔(دیکھئے باب ۱۰، روایت نمبر ۲۷۵۲) ان الفاظ سے بغیر قبضہ دیئے مجرد اعلان ہی۔وقف صحیح قرار پانے کا استدلال کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۷۱) ت ہے۔الله عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ فَلَمْ يَدْفَعُهُ إِلَى غَيْرِهِ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۴۹) ترجمہ اس کے مطابق۔