صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 101 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 101

صحيح البخاری جلده ۱۰۱ ۵۵- كتاب الوصايا بَدَنَةٌ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ کہا: یا رسول اللہ ! یہ اونٹ تو قربانی کا ہے۔ آپ نے ارْكَيْهَا وَيْلَكَ أَوْ وَيْحَكَ۔ اطرافه: ١٦٩٠، ٦١٥٩۔ تیسری یا چوتھی بار فرمایا: تجھ پر افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔ راوی کو شک ہے کہ اظہار نا راضگی کیلئے آنحض کیلئے آنحضرت می صلى الله عليه نے لفظ ویلک استعمال کیا یا ويُحك فرمایا۔) ٢٧٥٥ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ۲۷۵۵ : اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ کیا کہ مالک نے ابوزناد سے،ابوز ناد نے اعرج سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ اعرج نے حضرت ابو ہریرہ عنہ سے روایت کرتے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبُهَا دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جارہا تھا۔ آپ نے قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ تو اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! ارْكَبُهَا وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ یہ اونٹ تو قربانی کا ہے۔ آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس ! اطرافه 1٦٨٩، 1706، 6160۔ اس پر سوار ہو جاؤ۔ دوسری یا تیسری بار یہ فرمایا۔ تشريح : هَلْ يَنْتَفِعُ الْوَاقِفُ بِوَقْفِهِ : عنونہ مسلہ کا جواب حضرت امام بخاری نے روایات مندرجہ باب en کی بناء پر اثبات میں دیا ہے۔ کیونکہ وقف کرنے والا خود بھی متولی ہو سکتا ہے اور نگرانی کرنے کے عوض میں اگر وہ حاجت مند ہو تو بوجہ حق تولیت و خدمت اپنے وقف سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ متولی وقف کے استفادہ کی نسبت تو تمام فقہاء کو اتفاق ہے مگر امام مالک کے نزدیک اگر واقف ہی متولی ہو تو اُس کے لئے وقف سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں کہ اس جواز سے وقف کی غرض و غایت معدوم ہو جانے کا احتمال ہے اور ناجائز تصرف کا راستہ کھلتا ہے۔ بعض کے نزدیک اگر واقف بوقت وقف شرط کر لے کہ وہ نگرانی خود کرے گا اور وقف کی آمد سے نگرانی کے عوض فائدہ اُٹھائے گا تو یہ جائز ہوگا ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۶۹ - ۴۷۰) عنوان باب میں حضرت عمرؓ کے وقف کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس کے لئے روایت نمبر ۲۷۶۴، ۲۷۷۲، ۲۷۷۷ دیکھئے۔