صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 97 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 97

صحيح البخاری جلده ۹۷ ۵۵- كتاب الوصايا سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ حضرت ابو طلحہ سے فرمایا: میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے رہنے دو۔ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا حضرت ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کئے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے قریبی أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَ بَنِي عَمِّهِ ۔ رشتہ داروں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ اطرافه ١٤٦١ ، ٢٣١٨ ، ٢٧٥٨ ، ٢٧٦٩، 4٥٥٤، 4555، 5611۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ حضرت ابن عباس نے کہا: جب یہ آیت اتری: تم عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ٢١٥) قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور متنبہ کروں۔ تو نبی صلی اللہ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نام لے لے کر پکارنے لگے: اے بنی فہر! يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِي لِبُطُونِ اے بنی عدی! اس طرح قریش کے سارے خاندانوں قُرَيْشٍ۔ کو آپ نے بلایا ( اور پیغام دیا۔ ) وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَمَّا نَزَلَتْ اور حضرت ابوہریرہ نے کہا: جب یہ آیت اتری کہ وَانْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ النَّبِيُّ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور متنبہ کرو تو نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پکارا اے قریش کے لوگو! تشريح : إِذَا وَقَفَ أَوْ أَوْصَى لِأَقَارِبِهِ وَمَنِ الْأَقَارِبُ: حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک اقرباء میں سے ہر محرم رشتہ دار وصیت کا مستحق ہے۔ خواہ باپ کی طرف سے رشتہ دار ہو یا ماں کی طرف سے۔ امام طحادی کے نزدیک قاعده الأَقْرَبُ فَالْاقْرَبُ ملحوظ رکھا جانا چاہیے ۔ یہی مذہب امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا بھی ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک الْأَقْرَبِينَ سے موصی کے وہ رشتہ دار مراد ہیں جو ایک باپ سے ہوں۔ امام شافعی نے اس کی وضاحت میں یہ کہا ہے کہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، مرد ہوں یا عورت، محتاج ہوں یا غیر محتاج ، محرم ہوں یا غیر محرم، وارث ہوں یا غیر وارث، دادا ہو یا دادی، پوتا ہو یا پوتی ۔ اور اکثر فقہاء والدین اور اولاد کو مستثنی کرتے ہیں کیونکہ اُن کے لئے الگ حصص مقرر ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے غیر مسلم کو مستثنی کیا ہے اور کہا ہے کہ اُس کے حق میں وصیت درست نہیں۔ اور امام مالک نے محتاج رشتہ دار کو مقدم رکھا ہے۔ ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۴۴-۴۵) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۶۵ )