صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 95 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 95

صحيح البخاری جلده ۹۵ ۵۵- كتاب الوصايا مُضَر کو قبیلہ رَبِيعَة پر فوقیت ہے۔ مُضَر رَبِيعَة بولنے میں ثقیل ہے ۔ رَبِيعَةٌ صرف علت کی وجہ سے آسانی سے بولا جاتا ہے اور اگر مضر پہلے ہو تو اضافت کا شبہ ہوتا ہے یعنی ربیعہ کی شاخ مصر ۔ حالانکہ مصر کا قبیلہ اصل ہے اور ربیعہ اُس کی شاخ ہے۔ علاوہ ازیں اس ترکیب میں ثقالت کا دوسرا سبب یہ بھی ہے کہ مصر کو پہلے پڑھنے میں اس کی راء ربیعہ کی راء میں مدغم ہو کر ثقل پیدا کرتی ہے۔ تقدیم و تاخیر کی دوسری وجہ زمانے کا تقدم و تاخر بھی ہوتا ہے جیسے عاد و حمود۔ تیسری وجہ طبعی ترتیب کا تقاضا جیسے قُلتُ وَرُبع ۔ چوتھی وجہ مرتبہ ہے جیسے صلاة وصوم يا صلاة و زکاۃ۔ نماز فرض عام ہونے کے لحاظ سے اول درجہ پر ہے۔ زکوۃ مالی عبادت ہے جو خاص طبقہ پر فرض ہے۔ نماز بدنی عبادت ہے جس کا پنجوقتہ پڑھنا فرض ہے اور روزے سال میں ایک ماہ رکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح مالی عبادت افضل ہے روزے سے۔ اس لئے وہ بیان میں مقدم کی جاتی ہے۔ پانچویں وجہ سبب کا مسبب سے مقدم ہونا ہے جیسے عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۔ چونکہ وہ عزیز ہے اس لئے حاکم ہے۔ چھٹی وجہ افضلیت درجہ جیسے فرمایا: مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ۔ (النساء : ٧٠) ادائیگی قرضہ چونکہ لازمی ہے اور وہ بہر حال ادا کرنا ہے اور قرض خواہ بذریعہ عدالت بھی وارث سے لے سکتا ہے۔ مگر وصیت کا تعلق حق مہر، صلہ رحمی اور صدقہ وغیرہ سے ہے اور وارث اس کی ادائیگی میں سہل انگاری سے کام لے سکتا ہے۔ اس لئے بغرض تاکید بیان احکام میں وصیت دین ( قرضے) پر مقدم رکھی گئی ہے کہ وارث کی لاپروائی سے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ امام ابن حجر نے تقدیم کی ایک اور وجہ بھی بیان کی ہے کہ وصیت کا تعلق ہر شخص سے ہے مگر قرضداری کی حالت محدود ہے۔ اس لئے عام کو خاص پر بالطبع مقدم رکھا گیا ہے اور زین بن المنیر نے یہ توجیہہ بھی کی ہے کہ احکام تقسیم ورثہ کے بیان میں وصیت کا تعلق احکام ورثہ ہی سے ہے۔ اس لئے تسلسل بیان میں اس کا ذکر پہلے ہی ہونا چاہیے تھا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۶۳) بَاب ۱۰ : إِذَا وَقَفَ أَوْ أَوْصَى لِأَقَارِبِهِ وَمَنِ الْأَقَارِبُ اگر کسی نے اپنے رشتہ داروں کے لئے کچھ وقف کیا یا کوئی وصیت کی ۔ اور رشتہ دار کون ہیں؟ وَقَالَ ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ النَّبِيُّ اور ثابت نے حضرت انس سے نقل کیا کہ نبی ﷺ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ حضرت ابو طلحہ سے فرمایا: اپنے اس باغ کو اپنے محتاج اجْعَلْهُ لِفُقَرَاءِ أَقَارِ بِكَ فَجَعَلَهَا لِحَسَّانَ رشتہ داروں کیلئے رہنے دو تو انہوں نے حضرت حسان وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي اور حضرت ابی بن کعب کو دے دیا۔ اور ( محمد بن عبداللہ ) أَبِي عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِ حَدِيْثِ انصاری نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثَابِتٍ قَالَ اجْعَلْهَا لِفُقَرَاءِ قَرَابَتِكَ قَالَ ثمامہ سے ، ثمامہ نے حضرت انس سے روایت کرتے