صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 94 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 94

صحيح البخاری جلده ۹۴ ۵۵- كتاب الوصايا یعنی ضروریات سے جو بیچار ہے، اس سے صدقہ دیا جا سکتا ہے۔اس تعلق میں کتاب الزکاۃ باب ۱۸ بھی دیکھئے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنِ (النساء :(۱۳) میں وصیت کا ذکر دین (قرضہ) پر مقدم کیوں کیا گیا ہے؟ اس کا جواب چند حوالہ جات سے دیا گیا ہے۔پہلے ان حوالوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَاسٍ لَا يُوصِي الْعَبْدُ إِلَّا بِإِذْنِ اَهْلِهِ : ابن ابی شیبہ نے ان کا یہ قول موصولاً نقل کیا ہے کہ طہمان بن عباس کے دریافت کرنے پر انہوں نے جواب دیا کہ غلام آقا کی اجازت کے بغیر وصیت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ مالکا نہ تصرفات کا حق نہیں رکھتا۔علامہ عینی کا خیال ہے کہ یہ استدلال اس صورت میں مکمل ہو سکتا ہے جب آقا کی طرف سے غلام تصرفات سے روکا گیا ہو۔اگر اُس کی طرف سے غلام کو تصرف کا اختیار حاصل ہو تو وہ اُس کی اجازت کے بغیر بھی وصیت کر سکتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۴۳) مگر یہ صورت بھی در حقیقت مالک ہی کی اجازت ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس جملہ کا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ موصی ورثاء کی رضامندی اور اجازت سے وصیت کرے تا انہیں اپنی حق تلفی کئے جانے کی شکایت پیدا نہ ہو اور اُن کی موافقت سے فضا سازگار رہے۔گو یا العبد کے معنی ہیں انسان۔الْعَبُدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيّدِهِ : اس ارشاد نبوی کے لئے کتاب العتق باب ۱۷ روایت نمبر۴ ۲۵۵ دیکھئے۔اس حدیث میں آقا کے مال پرنگرانی کا حق آقا کے مالکانہ حق تصرف کے تحت ہے مستقل حق نہیں۔اس لئے دونوں حقوق ہے؟ میں تعارض نہیں۔ایک حق دوسرے کو باطل نہیں کرتا۔اگر صورت تعارض پیدا ہو تو مالک کا حق فوقیت رکھے گا۔اسی طرح اگر وصیت صدقات جو طوعی حقوق میں سے ہے حق فرائض کو باطل کرنے والی ہو تو ایسی وصیت جائز نہیں ہوگی۔قرضہ کا حق مقدم ہوگا۔یہ استدلال اور مفہوم ہے ان حوالہ جات کا۔چنانچہ یہی مفہوم و مقصود ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے : فَادَآء الْامَانَةِ أَحَقُّ مِنْ تَطَوُّعِ الْوَصِيَّةِ - الْيَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى: زیر باب دور و استیں منقول ہیں۔ایک میں حضرت حکیم بن حزام کا واقعہ ہے۔جس میں ارشادِ نبوی اليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى وارد ہوا ہے اور یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صدقہ وصیت کا طالب بہ نسبت طالب قرضہ کے ادنی ہے۔اگر کسی مریض نے ایک تہائی میں سے صدقہ کی وصیت کی ہو اور اس کے ذمہ قرضہ واجب الادا ہو تو قرض کی ادائیگی ہر حال میں مقدم ہوگی۔اس روایت کی مزید تشریح کے لئے كتاب الزكاة باب ۵۰ روایت ۱۴۷۲ دیکھئے۔دوسری روایت کا تعلق غلام کی نگرانی کے حق سے ہے جو حق مالک کے مقابل میں ثانوی درجہ رکھتا ہے۔غرض محض تقدیم و تاخیر سے ایک تہائی والا حق وصیت قرضے والے واجب الا داحق پر مقدم نہیں ہو جاتا۔علم معانی و بیان میں تقدیم و تاخیر کی چھ وجوہ مذکور ہیں۔اوّل: سلاست عبارت مثلاً فقره رَبِيعَةً ومُضَر بوجه سلاست رَبِيعَة مقدم ہے مُضَر پر۔بولنے میں لفظ ربيعة ہلکا ہے؟ یہ پہلے بولا جاتا ہے بحالیکہ تقدم و فضیلت اور بڑائی میں قبیلہ مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الوصايا، باب فى العبد يوصي، جزءا صفحه ۲۲۳)