صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 91
صحيح البخارى جلده ۹۱ ۵۵ - كتاب الوصايا ملتا ہے اور اس حکم میں وارث اور غیر وارث دونوں شامل ہیں اور موصی کو اس حکم کی تعمیل میں سوء ظن سے کسی کو حق وصیت سے محروم رکھنا خلاف منشاء الہی ہے۔اگر کسی فرد کی نسبت ثابت ہو کہ وہ امین نہیں اور وصیت میں خیانت کرنا چاہتا ہے تو اس کا تدارک بھی قرآن حکیم میں بتایا جاچکا ہے کہ اس میں مناسب اصلاح کی جاسکتی ہے۔ایک فرد کی غلطی سے تمام موصیوں کو محل احتمال و شبه گردان کر اُن کے حق سے محروم کر دینا درست نہیں؛ یہ استدلال ہے امام موصوف کا۔فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ الله : مشار الیہ ارشاد نبوی کی تفصیل کے لئے کتاب الایمان باب ۴ روایت نمبر ۱۰، باب ۲۴ روایت نمبر ۳۴ دیکھئے بَاب ٩ : تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوْمِي بِهَا أَوْ دَيْن اللہ تعالیٰ کے قول وصیت کی ادائیگی کے بعد جو اُس نے کی ہو یا قرض چکانے کے بعد کی تفسیر b (النساء:۱۲) وَيُذْكَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت قَضَى بِالدِّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ۔وَقَوْلُهُ کی ادائیگی سے پہلے قرضہ ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔عَزَّ وَجَلَّ: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ اور اللہ عزوجل کا فرمانا: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم تُؤَدُّوا الْاَمنتِ إِلَى أَهْلِهَا امانتوں کو اُن کے سپر د کر دو جو اُن کے اہل ہیں۔(النساء: ٥٩) فَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ أَحَقُّ مِنْ تَطَوُّع الْوَصِيَّةِ۔اس لئے امانت کا ادا کرنا اپنی مرضی کی وصیت سے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زیادہ ضروری ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنِّى وَقَالَ صدقہ وہی ہے جس کو دے کر خود محتاج نہ ہو جائے۔ابْنُ عَبَّاسِ لَا يُؤْصِي الْعَبْدُ إِلَّا بِإِذْنِ اور حضرت ابن عباس نے کہا: غلام اپنے مالکوں کی أَهْلِهِ۔وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجازت کے بغیر وصیت نہ کرے۔اور نبی ﷺ نے الله الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ۔فرمایا: غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے۔٢٧٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۷۵۰ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيَ عَنْ اَوزاعی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ