صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 90 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 90

صحيح البخارى جلده ۹۰ ۵۵ - كتاب الوصايا إِذَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ عِنْدَ مَوْتِهَا إِنَّ زَوْجِي قَضَانِي وَقَبَضْتُ مِنْهُ جَازَ : یہ حوالہ عامر شعبی کے فتویٰ کا ہے۔لَا يَجُوزُ اقْرَارُهُ لِسُوءِ الظَّنِّ بِهِ لِلْوَرَثَةِ: اس حوالے کا تعلق احناف کے فتویٰ سے ہے کہ مرض الموت میں وصیت اس جہت سے مشکوک ہے کہ اس سے بعض ورثاء کو عمداً محروم کرنا مقصود ہو سکتا ہے۔اس لئے وہ قابل نفاذ نہ ہوگی۔ثُمَّ اسْتَحْسَنَ فَقَالَ۔۔۔۔پھر احناف نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اموال امانت یا تجارت یا قصص شراکت کے بارے میں وصیت کی جاسکتی ہے۔احناف نے قرض ، ودیعت ( یعنی امانت ) بضاعت اور مضاربت میں فرق ملحوظ رکھا ہے۔اول الذکر سے متعلق وصیت کرنا لازم ہے کیونکہ اس بارہ میں آیت مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ أَوْ دَيْنٍ نص صریح ہے اور باقی تینوں کے بارے میں مریض کی وصیت بطور استحسان ہوگی۔علامہ عینی سوء ظنی کے الزام کا یہ جواب دیتے ہیں کہ مرض الموت کی وصیت میں جو غیر وارث کے حق میں کی گئی ہو، شک کا احتمال ہوسکتا ہے۔گو یہ کن ہے مگر ظن فاسد نہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ کے الفاظ سے منع فرمایا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۴۶ اصفحہ ۴۱ ) یہ جواب محض لفظی بحث ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ کا مذہب در حقیقت احتیاط پر مبنی ہے اور امام اوزاعی، اسحاق بن راہویہ، ابونور ، امام شافعی اور امام مالک کا مذہب اس بارے میں سہولت پر مبنی ہے کہ موصی کو بغیر قید تخصیص ارشاد باری تعالی میں اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک تہائی وارث یا غیر وارث کے لئے وصیت کر سکتا ہے۔امام مالک نے اس میں ایک استثناء کیا ہے کہ اگر بیٹی کے ساتھ اس کا چیرا بھائی شریک ہو یا چہیتی بیوی ہو اور اُس کے ساتھ اُس کا بیٹا شریک ہو جو دوسری بیوی سے ہو خصوصاً جب اُس چہیتی بیوی کا بھی بیٹا ہو تو اس صورت میں احتیاط کا تقاضا ہے کہ مرض الموت میں وصیت نہ کی جائے۔لیکن اگر یہ صورت نہ ہو تو بیماری میں اُن کے حق میں ایک تہائی مال سے وصیت کی جاسکتی ہے۔شوافع میں سے اوزاعی ، اسحاق اور ابوثور نے اس امر میں حضرت امام مالک کے فتویٰ سے اتفاق کیا ہے۔قاضی شریح اور حسن بن صالح کے نزدیک بیوی کا حق مہر ہی بطور ایک قرض مستثنی ہے ورنہ وارثوں کے لئے وصیت نہیں کی جاسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں سے ہر ایک کا حق مقرر کر دیا ہے۔صرف قرض کی ادائیگی کے لئے وصیت ہو سکتی ہے اور غیر وارث کے لئے بھی جس کا تعلق ایک تہائی جائیداد سے ہے باقی دو تہائی وارثوں کے لئے مخصوص ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۶۰-۴۶۱) وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ لا إِيَّاكُمُ وَالظَّنَّ: یہ جملہ ایک ارشاد نبوی کا حصہ ہے جو امام بخاری نے عله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کتاب الأدب روایت نمبر ۶۰۶۴ ،۶۰۶۶ میں منقول ہے۔وَلَا يَحِلُّ مَالُ الْمُسْلِمِینَ : یہ جملہ ایک حدیث سے مستنبط ہے کہ آيَةُ الْمُنَافِقِ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔(كتاب الإيمان باب ۲۴ روایت نمبر ۳۳ ۳۴) اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمُ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ إِلَى اَهْلِهَا : اس آیت کے حوالے سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ وصیت بھی در حقیقت انسان کے ذمہ بطور ایک امانت ہی کی ادائیگی ہے جس سے ہر حقدار کو اس کا حق