صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 92
صحيح البخارى جلده ۹۲ ۵۵ - كتاب الوصايا حَكِيْمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حضرت حکیم بن حزام حیلہ نے کہا: میں نے رسول اللہ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ﷺ سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا۔پھر میں نے مانگا تو وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ آپ نے مجھے دیا۔پھر آپ نے مجھ سے فرمایا حکیم ! یہ مال ( دیکھنے میں ) خوشنما اور (مزے میں) شیریں ہے۔قَالَ لِي يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ جس کسی نے اسے سیر چشمی سے لیا اُس کے لئے تو اس حُلْرٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ میں برکت دی جاتی ہے، اور جس نے جان جوکھوں لَهُ فِيْهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ میں ڈال کر اور لالچا کر لیا اس کے لئے اس میں کبھی لَّمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيْهِ وَكَانَ كَالَّذِيْ برکت نہیں ڈالی جائے گی۔اور وہ اُس شخص کی طرح يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔اور اونچا ہاتھ نچلے ہاتھ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيْمٌ فَقُلْتُ سے بہتر ہوتا ہے۔حضرت حکیم کہتے تھے۔میں نے کہا: يَا رَسُوْلَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يارسول اللہ ! اسی ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ! میں آپ کے بعد کسی سے بھی کوئی چیز لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ نہیں لوں گا؟ یہاں تک کہ دنیا سے جدا ہو جاؤں۔الدُّنْيَا فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُوْ حَكِيْمًا اور حضرت ابوبکر حضرت حکیم کو بلایا کرتے تھے کہ لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى أَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ انہیں وظیفہ دیں تو وہ انکار کر دیتے تھے کہ اُن سے شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى کچھ لیں۔پھر حضرت عمرؓ نے بھی اُن کو بلایا کہ انہیں أَنْ يُقْبَلَهُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ وظیفہ دیں۔مگر انہوں نے اُس کے لینے سے انکار إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ الله کر دیا۔تو ( حضرت عمر نے) کہا: اے مسلمانوں کی هَذَا الْفَيْءِ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ جماعت !دیکھو میں ان کے سامنے ان کا حق پیش کرتا مِنْ ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس غنیمت سے فَلَمْ يَرْزَأَ حَكِيْمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ (ان کے حصے میں ) مقرر کیا ہے مگر یہ اس کے لینے تُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللهُ۔النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سے انکار کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت حکیم نے نبی لَهُ اطرافه: ١٤٧٢، ٣١٤٣، ٦٤٤١۔کے بعد لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔اللہ ان پر رحم کرے۔