صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 89
صحيح البخارى جلده ۸۹ ۵۵ - كتاب الوصايا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو وَعَدَ أَخْلَفَ۔اطرافه: ۳۳، ٢٦۸۲، ٦٠٩٥۔جھوٹ بولے۔جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔تشریح : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ : بتایا جاچکا ہے کہ آیت يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ۔(النساء:۱۲) مواریث سے متعلق ہے اور تفصیل ہے اس عام مجمل حکم کی جو آیت كُتب يُكُمُ الْوَصِيَّةُ (البقرة: ۱۸۱) میں وارد ہوا ہے۔آیت وراثت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وراثت کے مقررہ حصص ورثاء کو مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنِ (النساء : ۱۳) تمہاری وصیت یا تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد دیئے جائیں؛ اس حصہ آیت سے عنوان قائم کر کے اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ وصیت کا تعلق غیر وارث یا بیوی کے حق مہر کی ادائیگی سے ہے یا بیوی کی اُس اولاد سے جو اُس کے پہلے خاوند سے ہو۔اسی طرح اس کا تعلق مساکین اور قومی اغراض کے لئے وقف جائیداد سے بھی ہے یا کسی قرض کی ادائیگی سے وصیت ایک تہائی مال کے اندر ہوگی۔اس سے زیادہ موصی کو اختیار نہیں۔مسئلہ معنونہ کی تفاصیل سے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے جس کی طرف عنوانِ باب میں مندرجہ ذیل حوالوں سے اشارہ کیا گیا ہے جو قابل وضاحت ہیں۔اَجَاؤُوا إِقْرَارَ الْمَرِيضِ بِدَيْن : پہلا حوالہ قاضی شریح ، عمر بن عبد العزیز ، طاؤس"، عطاء بن ابی رباح اور عبدالرحمن بن ادینہ قاضی بصرہ کا ہے کہ اگر بیمار وصیت کرے کہ فلاں کا اُس کے ذمہ قرض ہے تو تقسیم ورثہ سے قبل اُس وصیت کی تعمیل مقدم ہوگی۔(مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع، باب في الرجل يقر لوارث أو غير وارث بدين) اَحَقُّ مَا تَصَدَّقَ بِهِ الرَّجُلُ آخِرَ يَوْمٍ مِّنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلَ يَوْمٍ مِّنَ الْآخِرَةِ: یہ حوالہ امام حسن بصری کا ہے۔سنن الدارمی، کتاب الوصايا، باب الوصية للوارث) إِذَا أَبَرَاَ الْوَارِثَ مِنَ الدَّيْنِ بَری یہ فتویٰ ابراہیم مخفی کا ہے جو حکم بن عتیبہ سے مروی ہے کہ اگر وارث کو بیماری کے ایام میں کسی قرضہ سے آزاد کر دیا جائے تو اُس کے حصہ سے وہ قرضہ وضع نہ ہوگا۔(مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع، باب في المريض يبرئ الوارث من الدين) لَا تُكشَف امْرَأَتُهُ الْفَزَارِيَّةُ عَمَّا أُغْلِقَ عَلَيْهِ بَابُهَا : یہ حوالہ حضرت رافع بن خدیج کی وصیت کا ہے۔وہ اُحد میں شہید ہوئے تھے اور فوت ہونے سے قبل وصیت کی کہ اُن کی بیوی کے گھر میں جو اثاثہ ہے وہ اُسی کا ہے۔اس سے تعرض نہ کیا جائے۔یعنی وہ بطور میراث تقسیم نہ ہوگا۔إِذَا قَالَ لِمَمْلُوكِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ كُنتُ اَعْتَقْتُكَ جَازَ : یہ حوالہ حضرت حسن بصری کے فتویٰ کا ہے کہ مرض الموت میں غلام آزاد کیا جا سکتا ہے۔