صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 88 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 88

صحيح البخارى جلده MA ۵۵ - كتاب الوصايا مَوْتِهَا إِنَّ زَوْجِي قَضَانِي وَقَبَضْتُ میرا خاوند مجھ کو (مہر) دے چکا ہے اور میں اُس سے مِنْهُ جَازَ۔وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَا يَجُوزُ لے چکی ہوں تو جائز ہوگا۔اور بعض نے کہا: اس کا اقرار إِقْرَارُهُ لِسُوْءِ الظَّنِّ بِهِ لِلْوَرَثَةِ ثُمَّ درست نہیں اس لئے کہ وارثوں کو اس پر بد گمانی ہوسکتی اسْتَحْسَنَ فَقَالَ يَجُوزُ إِقْرَارُهُ بِالْوَدِيْعَةِ ہے۔پھر (انہی لوگوں نے ) اس امر کو اچھا سمجھا اور کہا کہ امانت اور بضاعت (یعنی دوسرے شخص کا سرمایہ وَالْبِضَاعَةِ وَالْمُضَارَبَةِ۔وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ لے کر بلا أجبرت اُس کے لئے تجارتی کاروبار کرنا ) اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ مضاربت (یعنی دوسرے شخص کے سرمایہ سے تجارتی فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ وَلَا يَحِلُّ منافع میں شراکت ) میں اس کا اقرار صحیح ہے، حالانکہ مَالُ الْمُسْلِمِيْنَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : تم بدگمانی سے اپنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْمُنَافِقِ إِذَا اؤْتُمِنَ آپ کو بچاتے رہنا، کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے خَانَ۔وَقَالَ اللهُ تَعَالَى : اِنَّ الله اور مسلمانوں کا مال مار لینا جائز نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَنتِ إِلَی علیہ وسلم نے فرمایا ہے: منافق کی نشانی یہ ہے کہ جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا أَهْلِهَا (النساء: ٥٩) فَلَمْ يَخُصَّ وَارِثَا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں یہ حکم دیتا وَلَا غَيْرَهُ فِيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ہے کہ تم امانتیں اُن کے مالکوں کو ادا کردو۔اللہ نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس سے نہ کسی وارث کو مخصوص کیا ہے اور نہ کسی دوسرے کو۔اس مسئلہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔٢٧٤٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ :۲۷۴۹ سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے ہم سے بیان کیا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ که اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا کہ ) حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ نافع بن مالک بن ابی عامر ابو سہیل نے ہم سے بیان أَبُو سُهَيْلِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ