صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 82
صحيح البخارى جلده تشریح: Ar ۵۵ - كتاب الوصايا الْوَصِيَّةُ بِالثُّلُثِ : فقہاء کا اس امر پر تو اجماع ہے کہ ایک تہائی جائیداد سے زیادہ طوعی وصیت نہیں کی جاسکتی کیونکہ وصیت وارثوں کے مقررہ حق میں مخل ہوگی۔لیکن جو لاوارث ہو، کیا اُس کے لئے بھی ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنا نا جائز ہے؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔احناف اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے اجازت دی ہے۔مگر جمہور کے نزدیک ایسے موصی کے لئے بھی جائز نہیں اور اس جواز کے حق میں حنبلیوں کی دلیل یہ ہے کہ آیت زیر عنوان (البقرۃ: ۱۸۱) میں وصیت کا ذکر تو علی الاطلاق ہے۔مگر ارشاد نبوی اور سنت نے اسے اُن موصیوں کے لئے مخصوص کر دیا ہے جن کے وارث ہوں اور اسی قید تخصیص سے لاوارث موصی آزاد ہیں۔وہ ایک تہائی سے زیادہ وصیت کر سکتے ہیں۔فقہاء کے اسی اختلاف کے پیش نظر عنوان باب میں حسن بصری کے فتویٰ اور آیت کا حوالہ دے کر جمہور کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ هُمْ وَاحْذَرُهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ نَفْسِقُونَ ) (المائدة: ۵۰) اور اے رسول! تو اُن کے درمیان اس کلام کے ذریعہ فیصلہ کر جو اللہ نے تجھ پر اُتارا ہے اور اُن کی خواہشات کی پیروی نہ کر ، اور اُن سے ہوشیار رہ کہ تجھے فتنہ میں ڈال کر اللہ تعالیٰ کے اُتارے ہوئے کلام سے دُور نہ لے جائیں۔ہیں اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن کے بعض گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دے اور لوگوں میں سے بہت سے لوگ عہد شکن ہیں۔اس آیت کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ احکام الہی میں خفیف کمی و بیشی بھی جائز نہیں کہ اس سے انسان کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور یہی ادب حضرت ابن عباس کے مذکورہ بالا مشورہ میں ملحوظ ہے۔جن فقہاء نے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنے کا فتویٰ دیا ہے۔اُن کا خیال ہے کہ اگر ذمی ورثاء جھگڑا کریں کہ موصی نے ایک تہائی سے زیاد وصیت کی ہے تو پھر فیصلہ میں کتاب اللہ کا حکم ایک تہائی ہی مقدم رکھنا پڑے گا۔اسی استدلال کے پیش نظر حضرت حسن بصری کے قول کا حوالہ دے کر قرآن مجید کی اس آیت سے فقہاء حنابلہ کا استدلال کمزور ثابت کیا ہے اور عنوانِ باب میں جمہور کا فتویٰ ان الفاظ میں پیش کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی حکم مدنظر رکھتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص کو ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی اور فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے۔اس ارشاد نبوی کے تحت حضرت ابن عباس کا مشورہ ہے کہ اس حد کے اندر وصیت ہو تو بہتر ہے۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۵۳) جس قسم کی وصیت کا ذکر ان ابواب میں ہے وہ فرائض والی وصیت نہیں بلکہ عام وصیت ہے جو طوعی ہے اور جس کا تعلق ایک تہائی جائیداد سے ہے اور اس طوعی وصیت ہی کے تعلق میں یہ بات بھی ہے کہ علاوہ مالی وصیت کے بچوں کی تربیت اور اُن کے حقوق کی نگہداشت سے متعلق بھی وصیت کی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں اگلا باب نیز کتاب الجنائز باب ۷۷ روایت نمبر ۱۳۵۰ دیکھئے۔