صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 72 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 72

صحيح البخاری جلدم ۷۲ ۳۴- كتاب البيوع اور اُن کے انداز فکر کو مدنظر رکھا جائے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ ابواب میں موقع محل کی مناسبت سے جابجا ان اثرات کا ذکر آئے گا ، تا اصلاح نبوی کی شان واضح ہو۔عکاظ ، ذوالمجاز اور مجتہ وغیرہ منڈیاں ایام حج میں وہی شان رکھتی تھیں جو آج کل کی نمائش گاہیں مصر اور شام وغیرہ ملکوں میں رکھتی ہیں۔جہاں پر ملک کے تاجر اور صناع اپنے فنون کا مظاہرہ کرتے ہیں۔میں نے بھی دمشق کی ایک نمائش اکتوبر ۱۹۵۶ء میں دیکھی تھی۔ہر ملک نے اپنے عجائبات سے دیکھنے والوں کو محو حیرت کر دیا تھا۔علاوہ ازیں اُن دنوں میں ہر حکومت کا سیاسی پرو پیگنڈا زور و شور سے جاری تھا۔یہی حال مذکورہ بالا حجازی منڈیوں کا بھی ہوا کرتا تھا۔عالم قدیم میں منڈیاں معمولی نہ تھیں۔باب ٣٦ : شِرَاءُ الْإِبِلِ الْهِيْمِ أَوِ الْأَجْرَبِ بیمار یا خارشی اُونٹ کی خریداری الْهَائِمُ الْمُخَالِفُ لِلْقَصْدِ فِي كُلّ هِيمٌ هَائِم کی جمع ہے اور ) لفظ الْهَائِم کے معنے ہیں جو ہر بات میانہ روی کے خلاف کرنے والا ہو۔شَيْءٍ۔۲۰۹۹ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۰۹۹ علی بن عبد اللہ ( ابن مدینی ) نے ہم سے بیان کیا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرٌو كَانَ که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ هَاهُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ نَوَّاسٌ وَكَانَتْ عمرو بن دینار ) کہتے تھے: یہاں ایک شخص ہوا کرتا تھا جس کا نام نو اس تھا۔اُس کے پاس بیمار اونٹ تھے۔عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيْمٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے ایک حصہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَاشْتَرَى تِلْكَ الْإِبِلَ دار سے وہ اونٹ خرید لئے تو ( نواس ) کا شریک اس مِنْ شَرِيْكِ لَّهُ فَجَاءَ إِلَيْهِ شَرِيْكُهُ فَقَالَ کے پاس آیا اور کہا: وہ اونٹ ہم نے بیچ دیئے ہیں۔بِعْنَا تِلْكَ الْإِبِلَ فَقَالَ مِمَّنْ بِعْتَهَا فَقَالَ اُس نے کہا: کس کے پاس اُن کو بیچا ہے؟ کہا کہ ایک مِنْ شَيْخِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ وَيْحَكَ بوڑھے کے پاس جو ایسی ایسی شکل کا ہے تو اس نے کہا: کم بخت وہ تو بخدا حضرت ابن عمر ہیں۔چنانچہ وہ ذَاكَ وَاللهِ ابْنُ عُمَرَ فَجَاءَهُ فَقَالَ إِنَّ ان کے پاس آیا اور اُس نے کہا: میرے شریک نے شَرِيْكي بَاعَكَ إِبِلًا هِيْمًا وَلَمْ آپ کے پاس بیمار اونٹ بیچے ہیں اور وہ آپ کو نہیں يَعْرِفُكَ قَالَ فَاسْتَقْهَا قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ جانتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پھر انہیں لے جاؤ۔(عمرو يَسْتَاقُهَا فَقَالَ دَعْهَا رَضِيْنَا بِقَضَاءِ بن دینار) کہتے تھے : جب وہ اُن کو لے جانے لگا تو