صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 71 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 71

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع نمائندے اور مبلغ حجاز وغیرہ میں مواسم حج کے موقع پر پہنچ جاتے اور اپنے اپنے مذہب و سیاست کا وعظ کرتے۔اُن مقدس دنوں میں ہر شخص کو پوری آزادی تھی۔چنانچہ اس آزادی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبل از ہجرت فائدہ اُٹھاتے رہے۔مذکورہ بالا مذہبی، سیاسی اور تجارتی رقابتوں نے عرب دنیا کو باہر کی دنیا سے وابستہ کر رکھا تھا اور ہر ملک کے انداز فکر اور تمدنی بود و باش اور طریق معاشرہ و کردار وغیرہ سے یہ لوگ اثر پذیر تھے۔پس مذکورہ بالا حجازی منڈیاں محض مقامی منڈیاں نہ تھیں اور بیت اللہ کا اثر صرف عربی قبائل ہی میں محدود نہ تھا بلکہ ہمسایہ تو میں بھی اس کا دور رس اثر شدت سے محسوس کر رہی تھیں۔مشہور انگریزی مؤرخ گین کی رائے میں ابر ہ کا حملہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جو رومی سلطنت کی تدبیر سے بروئے کار لایا گیا۔جس کے ذریعے سے یہ سلطنت چاہتی تھی کہ ایرانی سلطنت کے مقابل اس کا اثر و نفوذ اور تجارتی گرفت مضبوطی سے عربوں میں قائم ہو۔مختلف ممالک کی تجارت پر اسے مکمل قبضہ حاصل ہو سکے۔(History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire, Vol۔4 Chapter XLII State Of The Barbaric World۔Part III) قرآن مجید نے بیت اللہ کی اسی سیاسی و اقتصادی اہمیت کی طرف سورۃ الفیل اور سورۃ القریش میں اشارہ فرمایا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جلده اصفحہ ۲۷ تا ۸۰،۳۹ تا ۹۰) اور قدیم الایام سے عربوں کی تجارتی دلچسپی کا ذکر اشارۃ سورۃ ہود کی آیات نمبر ۸۵ تا ۸۸ میں ہے، جہاں مدین کی تجارت پیشہ قوم کی اصلاح کا بیان ہے جس کے لئے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث کئے گئے۔مدین بحر ابیض کے کنارے طور سینا کے دامن کا علاقہ تھا، جہاں مقام ایکہ کی تجارتی بندرگاہ تھی۔یہ وہی مقام ہے جس کا نام آج کل عقبہ ہے۔حضرت شعیب ال کا زمانہ منفتاح رعمیس ثانی ( حضرت مسیح علیہ السلام سے تقریبا ڈیڑھ ہزار سال قبل) کا زمانہ تھا اور اس زمانے سے بھی قبل آرامی ، ادوامی ، انباطی ، عاشوری، عمالیق، کلدانی مو آبی اور فینقی وغیرہ قبائل کی حکومتیں یکے بعد دیگرے عربی ممالک میں قائم ہوئیں اور یہ سب تو میں تجارت پیشہ تھیں۔ہمارے زمانہ میں آثار قدیمہ کے اکتشافات نے ان کی تاریخی اہمیت کو واشگاف کر دیا ہے۔عربوں کی یہ تجارت پیشہ قوم تھی، جس کی ذہنیت کا ضمیر نہ صرف یہ کہ دور دراز زمانوں سے پختہ ہو چکا تھا بلکہ وہ زمانہ جاہلیت کے آخری دور میں ہمسایہ قوموں کے تجارتی کاروبار سے متعلقہ عادات ورسوم کے زیر اثر تھی۔اس قوم کی اصلاح کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور بیع و شراء میں جو مبارک اور دور رس اصلاح آپ کے ہاتھوں سے پایہ تکمیل کو پہنچی ، اُس کی اہمیت کا اندازہ کتاب البیوع کے ابواب اور اُن کے عناوین سے واضح ہو جائے گا؟ بشرطیکہ مذکورہ بالا تاریخی منظر ذہن میں مستحضر رہے۔اسے سمجھنے کے لئے موجودہ زمانے کے حالات پر بآسانی قیاس کیا جاسکتا ہے۔آج کل مشرق وسطی کے تعلق میں برطانیہ، امریکہ اور روس کی حکومتوں نے جو سیاسی موقف اختیار کر رکھا ہے اور جس قسم کا اقتصادی اور اخلاقی دباؤ اور اثر عیسائی ممالک کا آج کل اسلامی ممالک پر ہے، بعینہ وہی موقف اور اثر زمانہ جاہلیت سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب بعثت تک ہمسایہ حکومتوں ایران، روم، مصر اور حبشہ وغیرہ کا عرب پر تھا اور آئندہ ابواب کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُس زمانہ کے عیسائیوں ، مجوسیوں اور مشرکین کے تجارتی طریق عمل