صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 73
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عمرؓ نے ) کہا: انہیں رہنے دو۔رسول اللہ لَا عَدْوَى سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا۔صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہم راضی ہیں اور کوئی شکایت (دارالقضاء میں ) نہ کی جائے گی۔( علی بن مدینی نے کہا:) سفیان نے عمرو بن دینار) سے اسی طرح سنا۔اطرافه ،۲۸۵۸، ٥۰۹۳، ٥٠٩٤، ٥٧٥، ۵۷۷۲ تشریح شِرَاءُ الْإِبِلِ الْهِمِ : اس باب میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیع وشراء کا ذکر ہے کہ وہ بھی سہولت وسماحت : پر بنی تھی۔معاملات میں کوئی ایسی بیچ نہیں تھا۔لفظ الهیمُ، الْهَائِم کی جمع ہے جو ھیام سے مشتق ہے۔جیسے غَائِط کی جمع غيط ہے۔کیام شدت کی بیماری ہے جو کھاری پانی پینے سے اونٹ کو ہو جاتی ہے۔جس سے وہ سخت بے قرار ہو کر ادھر ادھر سر گردان پھرتا ہے۔ایسے اُونٹ کو ھائیم کہتے ہیں۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۴۰۶) لَا عَدْوَى: یعنی لا عُدْوَان یعنی کسی پر تعدی اور ظلم نہ ہو۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دہرایا ہے۔(دیکھئے کتاب الطب روایت نمبر ۵۷۷۵) ان کی مراد یہ تھی کہ یہ اونٹ مجھے اسی حالت بیماری میں منظور ہیں اور اونٹوں کا مالک جس نے ان کا نقص بتایا، بری الذمہ ہے۔اس جملے کے یہ معنی ہیں کہ دار القضاء میں شکایت نہیں کی جائے گی۔کہتے ہیں: اَعْدَی عَلَيْهِ عِندَ الْقَاضِی۔ظلم کے ازالے کی غرض سے قاضی کے پاس شکایت کی۔مذکورہ بالا واقعہ سے ظاہر ہے۔ناقص بیج کا اگر اظہار نہ کیا گیا تو مشتری کو اس کے واپس کرنے کا حق ہے اور اگر وہ باوجود علم دیئے جانے کے لے لیتا ہے تو بائع بری الذمہ ہو جاتا ہے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ناقص مال بیچنا اس صورت میں جائز سمجھتے تھے کہ اس کے نقص کا اظہار کیا جائے ، ورنہ ناقص بیع باطل ہوگی۔باب ۳۷ : بَيْعُ السّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ وَغَيْرِهَا فساد وغیرہ کے دنوں میں اسلحہ ( ہتھیار) بیچنا وَكَرِهَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بَيْعَهُ فِي اور حضرت عمران بن حصین نے فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا پسند نہیں کیا۔الْفِتْنَةِ۔۲۱۰۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۱۰۰ عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحی بن سعید سے، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ كي نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابو محمد سے مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ جو حضرت ابو قتادہا کے آزاد کردہ غلام تھے۔ابومحمد نے