صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 73 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 73

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۳ ۳۴- كتاب البيوع رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (حضرت ابن عمرؓ نے ) کہا: انہیں رہنے دو۔ رسول اللہ لَا عَدْوَى سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہم راضی ہیں اور کوئی شکایت (دار القضاء میں ) نہ کی جائے گی۔ (علی بن مدینی نے کہا: ) سفیان نے عمرو بن دینار ) سے اسی طرح سنا۔ اطرافه ٢٨٥٨، 5093، 5094، ٥٧٥٣، ٥٧٧٢۔ تشريح : شِرَاءُ الْإِبِلِ الْهِيمِ پانی : اس باب میں صحابہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیع و شراء کا ذکر ہے کہ وہ بھی سہولت و سماحت پر بنی تھی۔ معاملات میں کوئی ایچ بیچ نہیں تھا۔ لفظ الْهِيمُ الْهَائِم کی جمع ہے جو ٹیام سے مشتق ہے۔ جیسے غائط کی جمع غَيْط ہے۔ بیام شدت کی بیماری ہے جو کھاری پانی پینے سے اُونٹ کو ہو جاتی ہے۔ جس سے وہ سخت بے قرار ہو کر ادھر اُدھر سرگردان پھرتا ہے۔ ایسے اُونٹ کو هَائِم کہتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۰۶) لا عَدْوَى ی : یعنی لا عُدْوَان یعنی کسی پر تعدی اور ظلم نہ ہو۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ جسے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دہرایا ہے۔ (دیکھئے کتاب الطب روایت نمبر ۵۷۷۵) ان کی مراد یہ تھی کہ یہ اونٹ مجھے اس حالت بیماری میں منظور ہیں اور اونٹوں کا مالک جس نے ان کا نقص بتایا ، بری الذمہ ہے۔ اس جملے کے یہ معنی ہیں کہ دار القضاء میں شکایت نہیں کی جائے گی ۔ کہتے ہیں: اَعْدَى عَلَيْهِ عِنْدَ الْقَاضِي۔ ظلم کے ازالے کی غرض سے قاضی کے پاس شکایت کی۔ مذکورہ بالا واقعہ سے ظاہر ہے۔ ناقص بیع کا اگر اظہار نہ کیا گیا تو مشتری کو اس کے واپس کرنے کا حق ہے اور اگر وہ باوجود علم دیئے جانے کے لے لیتا ہے تو بائع بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ناقص مال بیچنا اس صورت میں جائز سمجھتے تھے کہ اس کے نقص کا اظہار کیا جائے ، ورنہ ناقص بیچ باطل ہوگی۔ باب ۳۷ : بَيْعُ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ وَغَيْرِهَا فساد وغیرہ کے دنوں میں اسلحہ ( ہتھیار) بیچنا وَكَرِهَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بَيْعَهُ فِي اور حضرت عمران بن حصین نے فساد کے زمانہ میں الْفِتْنَةِ۔ ہتھیار بیچنا پسند نہیں کیا۔ ۲۱۰۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۱۰۰: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحی بن سعید سے، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ کي نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابو محمد سے مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ جو حضرت ابو قتاده۔ جو حضرت ابو قتادہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ابو محمد نے