صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 70 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 70

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع زمانہ قدیم سے بلاد عربیہ تجارت کا اہم مرکز رہے ہیں۔اور ان منڈیوں کی تجارت کو فروغ دینے میں یہودی اور عیسائی تاجروں کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔اس تعلق میں عربوں کی تجارت کا تاریخی پس منظر یہاں بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے اصحاب الفیل کا جو حملہ بیت اللہ پر ہوا تھا، وہ تاریخ عرب میں سیاسی و اقتصادی اعتبار سے بہت بڑی اہمیت رکھنے والا واقعہ ہے۔اس حملہ نے عربوں میں خود حفاظتی اور وحدت کی روح پیدا کر دی تھی۔اس سے اصلاحات نبویہ کی اصلی شان واضح ہوتی ہے۔حجازی قبائل عدنانیہ اور یمنی قبائل قحطانیہ کے باہمی روابط مضبوط کر دیئے۔چنانچہ عبدالمطلب نئی صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کے لئے سیف بن ذی یزن سردار یمن کو ابرہہ کی شکست اور یمن کی آزادی پر جو حبشیوں کے چنگل سے حاصل ہوئی ، مبارک باد دینے کے لئے خود یمن گئے۔یمن ان دنوں تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔مصر، سوڈان اور ایران وغیرہ کی تجارت گاہوں سے وابستہ ہونے کے سبب حجاز کی منڈیوں کے لئے وہ بطور ایک اہم ذریعہ طلب و رسد تھا۔اسی طرح حجازی منڈیاں جانب شمال ان عدنانی منڈیوں سے بھی واسطہ رکھتی تھیں جو بلاد شام وعراق میں واقع تھیں۔شام میں آل غسان وغیرہ قبائل رومی حکومت کے زیر اثر تھے اور عیسائیت قبول کر چکے تھے۔شام میں دمشق ، دومۃ الجندل اور بصری ، تدمر وغیرہ تجارتی منڈیاں تھیں۔عراق عرب میں حیرہ کا شہر تجارت کی بڑی منڈی تھا جو سلطنت ایران کے زیر اثر تھا۔یہاں عدنانی قبائل میں بنوشم، بنو کنانہ، بنومیر کندہ و بنو حارث وغیرہ کی آبادیاں تھیں اور ان میں سے اکثر مذہبا یہودی تھے اور یہ قبائل ایران کے زیر اثر تھے۔ان یہودی تاجروں کی مکہ ومدینہ کے تاجروں سے راہ و رسم تھی اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم کا احساس ان تمام قبائل میں موجود تھا۔ایام حج میں حجاز کی منڈیوں میں یہ اپنا سامان تجارت لاتے اور ان کی رونق بڑھاتے۔غرض اس طرح مشرق و مغرب اور جنوب و شمال کے تجار عکاظ ، مجتہ وغیرہ منڈیوں میں ہر سال ایام حج میں جمع ہوتے اور یہ تجارتی سلسلہ مواصلات نہ صرف ایام حج اور آشہر حرم میں قائم ہوتا بلکہ دوامی صورت رکھتا تھا۔تاریخ عرب کا علم رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ عرب قدیم الایام سے ہی تجارت میں بہت بڑی شہرت رکھتے تھے۔ان کی مدد کے بغیر تجارتی قافلے ایک ملک سے دوسرے ملک میں آجا نہیں سکتے تھے۔مبادلہ اشیاء میں ان کا مقام ویسی ہی قیمت رکھتا تھا جیسا کہ سیم وزر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک سیاسی صورت حال عربوں کے اس اقتصادی موقف کو تقویت دینے کا باعث ہوئی جس سے ان کے اقصادی تعلقات خارجی دنیا سے بہت بڑے پیمانے پر قائم و استوار ہو چکے تھے۔یہ سیاسی صورت حال وہ شدید رقابت تھی جو رومی اور ایرانی قیاصره واکا سرہ کے درمیان مدت سے چلی آرہی تھی۔وہ ایک دوسرے کے مذہب اور سیاست سخت دشمن تھے۔ان میں ہر حکومت چاہتی تھی کہ اس کا نفوذ واثر ممالک عربیہ میں قائم ہو، تا وہ اس اہم واسطہ تجارت سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھائے۔ایران نے اپنا مرکز نفوذ یمن و عراق میں اور روم نے اپنا مرکز نفوذ شام اور اَرضِ حجاز میں قائم کر رکھا تھا۔موسم حج میں نہ صرف دور دراز ملکوں کے تاجر ہی بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مذہبی